سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایبٹ آباد کے ایک اسکول میں 5 سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم شاہ رخ کی درخواستِ ضمانت مسترد کر دی ہے۔
سپریم کورٹ میں 5 سالہ بچے سے زیادتی کے ملزم شاہ رخ کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ واقعہ اسکول کی حدود کے اندر پیش آیا اور جو کچھ ہوا وہ بالکل صحیح نہیں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچوں کے ساتھ اس نوعیت کے سنگین افعال میں ملوث عناصر کسی رعایت یا نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔
وکیلِ صفائی کے دلائل اور عدالت کا موثر ردِعمل
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنی رپورٹ میں زیادتی ثابت نہ ہونے کا ذکر کیا ہے، جبکہ میڈیکل رپورٹ میں بھی بچے کے ساتھ زیادتی کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ نے ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے سے پہلے سماعت کا موقع دینا لازم قرار دیدیا
وکیل کے دلائل پر ردِعمل دیتے ہوئے جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر پولیس نے عدم شواہد کا ذکر کیا بھی ہے تو اب ٹرائل کورٹ کو اس کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باقاعدہ زیادتی ہوئی تھی یا نہیں، اس تمام تر معاملے اور شواہد کا حتمی جائزہ ٹرائل کورٹ ہی لے گی۔
کیس کا پس منظر
خیال رہے کہ ملزم شاہ رخ کے خلاف 24 اگست 2026ء کو خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں 5 سالہ بچے سے زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے درخواستِ ضمانت مسترد ہونے کے بعد اب کیس کی مکمل کارروائی اور فیصلہ متعلقہ ٹرائل کورٹ کے سپرد ہوگا۔













