جاپانی سائنسدان مریخ کے چاند فوبوس سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس مشن کا مقصد نظامِ شمسی کی تشکیل اور زمین پر زندگی کے آغاز سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنا ہے، جبکہ مستقبل میں انسانوں کو مریخ پر بھیجنے کی راہ ہموار کرنا بھی اس کے اہداف میں شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جاپان کے خلائی تحقیق کے ادارے جاکسا کا تیار کردہ بغیر انسانوں والا خلائی مشن ’مارشین مونز ایکسپلوریشن‘ امریکی اور یورپی خلائی اداروں سمیت متعدد جامعات اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا 2028 تک مریخ کا مکمل نقشہ بنانے کا منصوبہ
منصوبے کے مطابق، ایم ایم ایکس کو لے جانے والا جاپانی ایچ 3 راکٹ تانے گاشیما خلائی مرکز سے روانہ ہوگا۔
خلائی جہاز تقریباً ایک سال بعد مریخ کے قریب پہنچے گا اور اس کے چاند فوبوس کے گرد 3 سال تک گردش کرنے کے دوران سطح سے کم از کم 10 گرام مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرے گا۔
Japan to launch spacecraft on a mission to get samples from a Martian moon https://t.co/fH8AhBULWZ pic.twitter.com/9YpvzsiunC
— The Independent (@Independent) October 18, 2026
نمونے جمع کرنے سے قبل ’آئی ڈی فکس‘ نامی تحقیقی گاڑی فوبوس کی سطح کا جائزہ لے گی تاکہ محفوظ مقام پر اترنے میں مدد مل سکے، مشن مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا بھی مشاہدہ کرے گا، تاہم وہاں لینڈنگ نہیں کی جائے گی۔
مشن کے سربراہ یاسوہیرو کاواکاتسو کے مطابق، فوبوس سے نمونے حاصل کرنا دنیا میں پہلی کوشش ہوگی اور یہ مریخ کے خطے تک جا کر واپس زمین آنے والے مشن کی بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
مزید پڑھیں: مریخ پر 14 سالہ تحقیق کے بعد شہد کے چھتے جیسی حیران کن ساخت دریافت
جاپانی خلائی ادارے کو امید ہے کہ اس مشن سے مریخ اور اس کے دونوں چاندوں کی تشکیل سے متعلق سوالات کے جواب مل سکیں گے۔
ایک نظریے کے مطابق، مریخ سے کسی بڑے فلکیاتی جسم کے تصادم کے نتیجے میں خارج ہونے والے مادے سے اس کے چاند وجود میں آئے، جبکہ دوسرے نظریے کے تحت یہ ایسے سیارچے ہیں جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنے مدار میں قید کرلیا۔
ماہرین کے مطابق، ان نظریات کی حقیقت جاننے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ زمین سمیت چٹانی سیاروں پر زندگی کے لیے موزوں ماحول کیسے پیدا ہوا اور پانی و نامیاتی مرکبات ان علاقوں تک کیسے پہنچے۔
مزید پڑھیں: مریخ پر زندگی کس جگہ تلاش کی جائے؟ ’شیطان کیڑے‘ نے سائنسدانوں کو نیا اشارہ دے دیا
مشن میں فرانس، جرمنی، امریکا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت متعدد ادارے شریک ہیں۔ تاہم، فوبوس کی انتہائی کمزور کششِ ثقل اور مریخ کے قریب جا کر واپس آنے کے تقاضے سائنس دانوں کے لیے بڑے تکنیکی چیلنج ہیں۔
دوسری جانب، چین نے اپنا ’تیان وین 3‘ مشن تقریباً 2028 میں روانہ کرنے اور 2031 تک مریخ سے نمونے زمین پر لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
جاپانی سائنسدانوں کے مطابق، فوبوس کی ریت اور چٹانیں مریخ کی تشکیل اور ممکنہ طور پر زندگی کے آغاز سے متعلق ایسے شواہد فراہم کرسکتی ہیں جو نظامِ شمسی کی تاریخ سمجھنے میں مددگار ہوں گے۔










