فرانس میں پرتشدد مظاہرے، میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں، لوٹ مار اور امن و امان کی بگڑتی صورت حال پر شدید تنقید کے باوجود وزیر داخلہ لوراں نونیز کا استعفیٰ مسترد کرتے ہوئے انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقریباً ایک ہزار اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ لگ بھگ 2 ہزار 400 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق، وزیر داخلہ لوراں نونیز نے ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران حکومتی اقدامات پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد اتوار کو صدر میکرون کو استعفیٰ پیش کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس میں مظاہرین کیخلاف کریک ڈاؤن پر ایران کا طنز

نونیز نے فرانس انٹر ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے بعض شہروں میں پولیس کے حالات پر قابو کھونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے لیے پیشگی تیاری میں بھی کمی رہی، ان کے مطابق، صورت حال کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکامی نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنایا۔

ایلیزے پیلس کے بیان کے مطابق، صدر میکرون نے موجودہ بحران کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کمان میں تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت کے پیش نظر استعفیٰ مسترد کیا۔

تاہم، انہوں نے انٹیلیجنس معلومات کے حصول اور پیشگی منصوبہ بندی میں سامنے آنے والی خامیوں کے حوالے سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ بھی کیا۔

فرانس میں بدامنی کے واقعات پر پیرس، مارسیلے اور لیموج سمیت متعدد شہروں کے مقامی رہنماؤں نے حکومتی ردعمل پر تنقید کی ہے، وزیر داخلہ نونیز آئندہ مارسیلے کا دورہ کریں گے، جہاں حکام کے مطابق ہفتے کے روز لوٹ مار میں تقریباً 30 ہزار افراد ملوث تھے۔

دوسری جانب، صدر میکرون نے اتوار کی شام ٹیلی ویژن خطاب میں تباہی پھیلانے والوں کے احتساب کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔

مزید پڑھیں: فرانس میں مہنگائی کے خلاف پُرتشدد احتجاج، تاریخی ٹاؤن ہال نذرِ آتش

اتوار کی رات پیرس، لیون اور مارسیلے میں ایک بار پھر جھڑپوں اور لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے۔ پیرس میں پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب تازہ واقعات کے بعد رات تقریباً 12 بجے تک 92 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ادھر، وزیراعظم سیباستیان لکورنو کی زیر صدارت بین الوزارتی ہنگامی اجلاس میں بدامنی کے معاشی اثرات، کاروباری مراکز کو پہنچنے والے نقصانات، انشورنس معاملات اور جاری قانونی کارروائیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

فرانسیسی فیڈریشن آف کامرس اینڈ ڈسٹری بیوشن کے مطابق، ہفتے کے روز تشدد کے دوران تقریباً 1,500 کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مالی نقصانات کا تخمینہ کئی سو ملین یورو لگایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نہار منہ زیتون کا تیل پینا کیا واقعی بلڈ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتا ہے؟

ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز چیمپیئن شپ 2026 کے شیڈول کا اعلان، پاک بھارت ٹیمیں 22 نومبر کو آمنے سامنے ہوں گی

برطانیہ میں گھڑیاں پیچھے، پاکستان سے وقت کا فرق کتنے گھنٹے ہوگا؟

صدرآصف علی زرداری کا دورہ جرمنی، سیمنز کا شعبۂ صحت میں تعاون، مفاہمتی یادداشتوں کے لیے جلد پاکستان آنے کا اعلان

لاہور: بارش اور ژالہ باری، فضائی آلودگی میں قدرے کمی آگئی

ویڈیو

اسلام آباد میں بارش کے بعد ملک بھر میں کہاں برسات کا امکان ہے؟

عالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ، معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیر خزانہ

بابر اعظم اور شاداب خان توقعات پر پورے نہیں اتر رہے، شاہین آفریدی بہتر کپتان ہیں، ماجد بھٹی

کالم / تجزیہ

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟

باغ جل رہا ہے