مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ چشمے نابینا اور کم بینائی رکھنے والے افراد کے لیے روزمرہ زندگی میں ایک بڑی سہولت بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہ چشمے راستوں کی نشاندہی کرنے، سڑک پر موجود رکاوٹوں سے آگاہ کرنے، تحریر پڑھنے اور مختلف اشیا کی شناخت میں مدد فراہم کرتے ہیں تاہم بعض افراد کی جانب سے ان کے مبینہ غلط استعمال اور خفیہ ریکارڈنگ کے واقعات نے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والے افراد کے لیے بھی مشکلات پیدا کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چشمے نابینا افراد کی آنکھیں بن گئے، جانیے استفادہ کرنے والے کیا کہتے ہیں؟
اسمارٹ چشموں کے ذریعے لوگوں کی اجازت کے بغیر ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد بعض جگہوں پر ان کے استعمال پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔ اس صورتحال میں نابینا اور کم بینائی رکھنے والے افراد کو خدشہ ہے کہ دوسروں کے غلط طرز عمل کا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے، حالانکہ ان کے لیے یہ چشمے تفریح یا خفیہ ریکارڈنگ کا ذریعہ نہیں بلکہ خودمختار زندگی گزارنے میں مدد دینے والا ایک اہم آلہ ہیں۔
اس حوالے سے 44 سالہ فریزر فلیمنگ کا تجربہ قابل ذکر ہے جو بینائی سے محروم ہیں اور مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ چشمے استعمال کرتے ہیں۔
فریزر کے مطابق وہ کسی مصروف سڑک کے قریب پہنچ کر اپنے چشموں سے سامنے موجود راستے کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ چشموں میں نصب چھوٹے اسپیکرز کے ذریعے انہیں بتایا جاتا ہے کہ آگے کتنی گاڑیاں کھڑی ہیں اور کوئی شخص ان کی طرف آرہا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیے: اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟
ان کا کہنا ہے کہ یہ معلومات انہیں یہ فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں کہ سڑک پر کس طرح آگے بڑھنا ہے، کہاں احتیاط کی ضرورت ہے اور آیا انہیں آہستہ چلنا چاہیے یا معمول کی رفتار سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
فریزر کے مطابق انہوں نے بیس کی دہائی میں بینائی کھونا شروع کی تھی اور گزشتہ دو برس کے دوران یہ اسمارٹ چشمے ان کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ وہ ان کی مدد سے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے، سڑکوں پر لگے نشانات پڑھنے اور ریستورانوں میں کھانے کی فہرست سمجھنے جیسے کام بھی انجام دیتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ چشموں کے ذریعے لوگوں کی خفیہ ریکارڈنگ کے واقعات کے بعد اب انہیں عوامی مقامات پر یہ چشمے پہننے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے۔
فریزر کے مطابق بعض لوگ ان چشموں کو منفی انداز میں دیکھتے ہوئے انہیں ایسے چشمے قرار دیتے ہیں جن کا مقصد لوگوں کی خفیہ ویڈیوز بنانا ہے حالانکہ بصارت سے محروم افراد انہیں اپنی زندگی آسان بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسمارٹ چشمے نابینا افراد کی زندگیاں بدل رہے ہیں لیکن شرپسند عناصر یہ سہولت چھیننے کے درپے
ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے یا نامناسب حالات میں لوگوں کی ویڈیوز بنانے کے لیے یہ چشمے استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کی مدد سے زیادہ خودمختار زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فریزر کے مطابق بعض اوقات انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ چشمے پہننے کی وجہ سے کسی سے تنازع پیدا ہوسکتا ہے اس لیے وہ انہیں اتار کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے اپنی دیگر حسی صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے ان کے لیے روزمرہ نقل و حرکت مزید مشکل ہوجاتی ہے۔
اسی طرح ٹریسی روجرسن بھی بینائی کی کمزوری کے باوجود خودمختار زندگی گزارنے کے لیے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔
مزید پڑھیے: خفیہ کیمروں والی عینک، قلم اور گھڑیوں پر بھی پابندی، پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ
ان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے سنا کہ ان چشموں کو لوگوں کی خفیہ ریکارڈنگ سے جوڑا جارہا ہے تو انہیں حیرت اور افسوس ہوا کیونکہ ان کے لیے یہ چشمے زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں اور روزمرہ کے کاموں میں خودمختاری برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اسمارٹ چشمے بنانے والی کمپنی میٹا نے سنہ 2021 میں یہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی۔ کمپنی کے مطابق ان چشموں کی مدد سے نابینا، کم بینائی رکھنے والے اور سماعت سے محروم افراد کو روزمرہ زندگی میں زیادہ خودمختاری حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیں: اسمارٹ چشمے: کیمرا آنکھ کے اشارے سے ویڈیو بنا لیتا ہے، لاہور ہائیکورٹ سے اے آئی گلاسز پر پابندی کی استدعا
تاہم ان چشموں میں نصب کیمروں کے غلط استعمال کے خدشات کے باعث بعض تقریبات اور عوامی مقامات پر ان کے استعمال پر پابندیاں بھی عائد کی جارہی ہیں۔
ایسی ہی ایک پابندی کے باعث شدید بصری معذوری کا شکار گورڈن براؤن نے ایک اہم تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
گورڈن گزشتہ 3 برس سے اپنے اہلخانہ کے ساتھ ایک کامک اور تفریحی تقریب میں شرکت کرتے رہے ہیں، تاہم منتظمین کی جانب سے میٹا اسمارٹ چشموں سمیت دیگر ایسے قابل استعمال آلات پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد انہوں نے اس بار تقریب میں نہ جانے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ کسی سائن بورڈ کو پڑھنے کے لیے بھی چند لمحوں کے لیے اپنے چشمے استعمال کرنا چاہیں تو انہیں اس بات پر اطمینان نہیں ہوگا کہ وہاں انہیں اس کی اجازت ملے گی یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: میٹا کے کیمرا نصب اسمارٹ چشموں پر برطانیہ میں رازداری کے خدشات، کئی مقامات پر پابندی
گورڈن کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پابندی عائد کرنے والوں نے معذور افراد کے نقطہ نظر کو سمجھنے اور ان سے بات چیت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والے بصارت سے محروم افراد کی تعداد اتنی زیادہ نہیں کہ ان کی ضروریات کو نظرانداز کردیا جائے۔
دوسری جانب اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے متاثر ہونے والے افراد بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لوگوں کی نجی زندگی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب پابندیاں ضروری ہیں۔
ٹیہ پرن نامی ایک فنکارہ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر تقریباً 19 لاکھ فالوورز رکھنے والی شخصیت کو بھی ایک ایسے ہی واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق ایک تفریحی تقریب کے دوران اسمارٹ چشمے پہنے ایک شخص نے انہیں خفیہ طور پر ریکارڈ کیا اور بعد میں اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر شیئر کردی۔
مزید پڑھیں: جنسی ہراسانی اور پرائیویسی کیسز میں اسمارٹ گلاسز کی تحقیقات، فرانس میں قانونی جانچ تیز
ٹیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے انہیں شدید ذہنی اذیت پہنچائی اور انہیں محسوس ہوا کہ ان کی نجی زندگی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
ان کے مطابق ویڈیو بنانے والا شخص جان بوجھ کر انہیں اشتعال دلانے اور عجیب تبصرے کرنے کی کوشش کررہا تھا تاکہ ان کا ردعمل ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جاسکے اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
ٹیہ کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسمارٹ چشموں کے استعمال پر پابندیاں ضروری ہوسکتی ہیں تاہم ان افراد کے لیے استثنیٰ ہونا چاہیے جنہیں حقیقی طور پر اپنی معذوری کے باعث ان کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: ایپل کے اسمارٹ گلاسز 2027 میں متعارف کرائے جانے کا امکان، ممکنہ قیمت کتنی ہوسکتی ہے؟
ان کے مطابق معذور افراد کو ان چند لوگوں کے غلط رویے کی سزا نہیں ملنی چاہیے جو اس ٹیکنالوجی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
میٹا کا مؤقف
اسمارٹ چشمے بنانے والی کمپنی میٹا کا کہنا ہے کہ اسے اس بات پر فخر ہے کہ اس کی مصنوعی ذہانت سے لیس ٹیکنالوجی نابینا، کم بینائی رکھنے والے اور سماعت سے محروم افراد کو روزمرہ زندگی میں زیادہ خودمختاری فراہم کررہی ہے۔
کمپنی کے مطابق جن چشموں میں کیمرا نصب ہوتا ہے ان کے فریم کے سامنے ایک روشن اشارہ موجود ہوتا ہے جو تصویر یا ویڈیو بناتے وقت چمکتا ہے تاکہ اردگرد موجود لوگوں کو ریکارڈنگ کا علم ہوسکے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس اشارے کو بند نہیں کیا جاسکتا اور اگر کوئی اسے ڈھانپنے یا اس میں ردوبدل کرنے کی کوشش کرے تو کیمرا کام کرنا بند کردیتا ہے۔ کمپنی صارفین کو نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے کی ہدایت بھی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسمارٹ چشمے نابینا افراد کی زندگیاں بدل رہے ہیں لیکن شرپسند عناصر یہ سہولت چھیننے کے درپے
اسمارٹ چشموں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اب ایک اہم سوال یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ لوگوں کی نجی زندگی کے تحفظ اور معذور افراد کی ضروریات کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے تاکہ کسی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی وجہ سے ان افراد کی خودمختاری متاثر نہ ہو جو اس سے حقیقی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔











