لاہور ہائیکورٹ میں میٹا کے رے بین اور اسی طرز کے دیگر کیمرا و مائیکروفون والی اسمارٹ گلاسز کی غیر منظم درآمد، فروخت اور استعمال کے خلاف مفاد عامہ کی رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چشمے: سہولت کے ساتھ غلط معلومات اور پرائیویسی کے خدشات بھی سامنے آگئے
درخواست گزار حسین العابدین نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت یہ پٹیشن دائر کی ہے جس میں شہریوں کی عزت، پرائیویسی اور سیکیورٹی کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکلا بیرسٹر شہرام ساقی، عابد ساقی اور صباحت رضوی نے عدالت میں تفصیلی مؤقف اختیار کیا کہ یہ گلاسز بظاہر عام عینک کی طرح دکھائی دیتی ہیں لیکن ان میں بلٹ ان کیمرا، متعدد مائیکروفونز، اسپیکرز، بلوٹوتھ اور وائی فائی کنیکٹیویٹی موجود ہے۔
وکلا کا کہنا تھا کہ یہ ڈیوائس پہننے والا شخص کسی بھی فرد کی لائیو ویڈیو، ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویر بغیر کسی واضح اشارے کے ڈیوائس میں محفوظ کر لیتا ہے۔
وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ موبائل فون کے برعکس یہ چشمے مسلسل پہنے جاتے ہیں، پہننے والے کی نظر کے ساتھ قدرتی طور پر ہم آہنگ رہتی ہیں اور اردگرد موجود افراد کو مناسب نوٹس یا رضامندی کا موقع نہیں دیتیں۔ میٹا کے اپنے بتائے گئے انڈیکیٹر کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وکلاء نے کہا کہ یہ صرف مختصر وقت کے لیے جھپکتا ہے اور ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران مسلسل روشن نہیں رہتا، جس سے متاثرہ شخص کو سمجھ نہیں آتا کہ ریکارڈنگ ہو رہی ہے یا نہیں۔ وکلاء نے زور دیا کہ یہ ڈیوائس بنیادی طور پر موبائل فون سے مختلف ہے کیونکہ یہ خفیہ، مسلسل اور فرسٹ پرسن ریکارڈنگ کی سہولت دیتی ہے جس سے آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ یہ آرٹیکل کسی بھی شہری کی زندگی، آزادی، عزت اور گھر کی پرائیویسی میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتے۔
وکلا نے مزید بتایا کہ میٹا نے پاکستان کو باضابطہ مارکیٹ قرار نہیں دیا مگر یہ گلاسز لاہور سمیت ملک بھر میں آن لائن اسٹورز اور فزیکل شاپس پر کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں۔
مزید پڑھیے: اسمارٹ چشمے، جدید سہولت یا خفیہ نگرانی کا نیا ذریعہ؟
درخواست گزار نے 8 ستمبر 2026 کو متعلقہ محکموں کو شکایات بھیجی تھیں مگر کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ بیرسٹر شہرام ساقی نے آئرلینڈ، اٹلی اور جرمنی کی فیڈرل نیٹ ورک ایجنسی کے موقف اور انگلینڈ، ویلز و نیویارک کی عدالتوں میں اسمارٹ گلاسز پر پابندیوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں، ایئرپورٹس، پولیس اسٹیشنز اور سرکاری دفاتر جیسے حساس مقامات پر اس طرح کی خفیہ ریکارڈنگ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ابتدائی سماعت کے دوران وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، وزارت تجارت، داخلہ اور دیگر متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کیے اور 8 اکتوبر تک جواب طلب کیا۔
8 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر، پی ٹی اے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے پیش ہوئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ نوٹسز بھیجے گئے تھے مگر داخلہ، کامرس، ایف بی آر اور کسٹمز کی جانب سے جواب داخل نہیں ہوئے۔ اس پر چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری کامرس ڈویژن، چیئرمین ایف بی آر اور ممبر کسٹمز کو 15 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ پی ٹی اے کو اگلی سماعت تک جواب داخل کرنے کی مزید مہلت دے دی گئی۔
مزید پڑھیں: اسمارٹ چشمے اور خواتین کی پرائیویسی: پاکستان میں ایک نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ نیا خطرہ؟
اب اگلی سماعت 15 اکتوبر کو ہوگی جس میں متعلقہ حکام سے ان گلاسز کی درآمد، فروخت، ٹائپ اپروول اور سیکیورٹی اثرات کے حوالے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ درخواست گزار اور ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ جب تک ضابطہ کاری اور پابندی نہیں لگائی جاتی شہریوں کی پرائیویسی، عزت اور قومی سلامتی کو مسلسل خطرہ لاحق رہے گا۔












