خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ممکنہ طور پر ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کو معدنی وسائل پر قبضے سے جوڑنے کے مولانا فضل الرحمان کے مؤقف پر تجزیہ کاروں نے سوالات اٹھائے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دہشتگردی جیسے سنگین قومی مسئلے کو سیاسی مفادات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے حقائق، شواہد اور زمینی صورتِ حال کی بنیاد پر گفتگو ہونی چاہیے۔
سینئر تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا کو معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن کے مقابلے میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں پر بھاری وسائل خرچ کیے گئے ہیں، اس لیے معدنی وسائل پر قبضے کے الزامات کو ٹھوس شواہد کے بغیر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کا سخت مؤقف اصولی اختلاف یا سیاسی حکمت عملی؟ تجزیہ کاروں کی رائے سامنے آگئی
تجزیہ کاروں نے زور دیا کہ مولانا فضل الرحمان سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کو دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مؤثر تجاویز پیش کرنی چاہییں، نہ کہ ایسے بیانیے کو فروغ دینا چاہیے جس سے قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی تقسیم مزید گہری ہو۔
سینیئر تجزیہ کار عمر چیمہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان خود اس بات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا میں اپنے حلقے کے اندر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے۔
ان کے مطابق اگر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے دہشتگردی پر قابو پانے اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے تو اس کا فائدہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو بھی ہوگا۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان سے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ گورنر راج کو مالِ غنیمت سمجھیں گے، طلال چوہدری
عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے لیے یہ مناسب موقع تھا کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اپنی تجاویز سامنے لاتے اور بتاتے کہ کن اقدامات کے ذریعے خیبر پختونخوا کو بدامنی سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔
ان کے بقول، ایک سینیئر سیاسی رہنما کی حیثیت سے مولانا کو اس معاملے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ دہشتگردی کا خاتمہ کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے جیسے اہم موضوع پر بھی سیاست کی جا رہی ہے اور بعض سیاسی رہنما اس معاملے کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے بغیر خیبرپختونخوا حکومت بنی اور چلے گی بھی، گورنر فیصل کریم کنڈی
عمر چیمہ کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے معدنیات سے متعلق بیان کی حقیقت جانچنے کے لیے ٹھوس دلائل اور شواہد درکار ہیں، تاہم ان کے خیال میں اس مؤقف کے حق میں قابلِ ذکر دلائل سامنے نہیں لائے گئے۔
عمر چیمہ نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کسی بھی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اس کے متبادل کے طور پر کون سا مؤثر راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی رہنما کو گورنر راج یا ایمرجنسی کے طریقۂ کار پر اعتراض ہے تو اسے مخالفت کے ساتھ ساتھ امن کے قیام کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی پیش کرنی چاہییں۔
معدنیات کے ٹھیکوں پر اعتراض ہے تو ریکارڈ سامنے لایا جائے
سینیئر تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سینیئر اور تجربہ کار سیاست دان سے ایسے بیانات کی توقع نہیں تھی، ان کے مطابق اگر معدنیات کے ٹھیکوں، قدرتی وسائل کے استعمال یا ان سے حاصل ہونے والی آمدن کی تقسیم کے حوالے سے اعتراضات موجود ہیں تو ان پر بات ہونی چاہیے، تاہم تنقید حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے، محض الزامات کی صورت میں نہیں۔
منیب فاروق نے کہا کہ معدنیات کے ٹھیکوں کے معاملے میں متعلقہ حکومتی فیصلوں، ٹھیکوں کے اجرا اور مالی معاملات کے ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق 2013 سے 2026 تک معدنیات کے ٹھیکوں کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ متعلقہ ٹھیکے کس حکومت یا ادارے نے جاری کیے، کن شرائط کے تحت دیے گئے اور ان سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کہاں خرچ کیے گئے۔
مزید پڑھیں: ایمرجنسی کے بعد تحریک انصاف کیا کرے؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قدرتی وسائل پورے ملک کی دولت ہیں اور ان سے استفادے کے لیے امن و امان کا قیام بنیادی شرط ہے، ان کے بقول، پاکستان تحریک انصاف اور بعض دیگر اپوزیشن حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ فوج یا ریاستی ادارے معدنی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، تاہم اس نوعیت کے دعوؤں کی جانچ کے لیے ٹھوس شواہد سامنے لانا ضروری ہے۔
منیب فاروق کا کہنا تھا کہ معدنیات کے ٹھیکوں اور ان میں مختلف اداروں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ ’اگر کسی ادارے کے کردار پر اعتراض ہے تو یہ واضح کیا جائے کہ کون سا ٹھیکہ کس نے جاری کیا، اس کا قانونی طریقۂ کار کیا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن کس مد میں استعمال ہوئی۔‘
انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن پر زور دیا کہ وہ اپنے اعتراضات واضح دلائل اور شواہد کے ساتھ سامنے لائیں، ان کے مطابق اگر مولانا کے پاس اس حوالے سے معلومات اور ثبوت موجود ہیں تو انہیں پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے، تاکہ معاملے کی اصل صورتِ حال واضح ہو سکے اور محض الزامات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے حقائق کی روشنی میں بحث کی جا سکے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان تلخی بڑھانے کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کریں، حکومتی رہنما
منیب فاروق نے صوبائی وسائل کے استعمال اور مالی حقوق کے معاملے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی صوبے میں معدنی ذخائر موجود ہیں تو ان سے حاصل ہونے والی آمدن کے استعمال اور تقسیم کا شفاف حساب سامنے آنا چاہیے۔
ان کے مطابق اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن کہاں خرچ ہوئی، اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچا اور صوبے اور وفاق کے درمیان مالی حقوق کا معاملہ کس طرح طے کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ قدرتی وسائل کے بارے میں سوال اٹھانا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن ان سوالات کو کسی ادارے پر قبضے یا وسائل ہتھیانے کے الزامات میں تبدیل کرنے سے پہلے شواہد پیش کرنا ضروری ہے۔
’معدنیات سے 18 ارب روپے، جبکہ دہشتگردی کے خلاف 800 ارب روپے کی فراہمی‘
سینیئر تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق وفاق نے دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر ہزاروں ارب روپے خرچ کیے ہیں، متعلقہ عرصے میں خیبر پختونخوا کو معدنیات سے تقریباً 18 ارب روپے حاصل ہوئے، جبکہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صوبے کو 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔
ضیغم خان کے مطابق ان اعداد و شمار کی روشنی میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو معدنیات پر قبضے کی کوشش قرار دینے والے بیانیے کا جائزہ لینا ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس نوعیت کا مؤقف اختیار کرنے سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے ریاستی اداروں کے کردار اور دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ اچانک نہیں مکمل قومی اتفاق رائے کے بعد کیا گیا، ایم کیو رہنما حسان صابر
ضیغم خان نے سوال اٹھایا کہ افغانستان سے پاکستان آنے والے دہشتگرد کیا معدنیات حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں یا ان کی سرگرمیوں کا تعلق دہشتگردی اور بدامنی سے ہے، ان کے مطابق دہشتگردی کے مسئلے کو معدنی وسائل پر قبضے کے بیانیے سے جوڑنے کے باعث اصل مسئلے، یعنی دہشت گردی کے خاتمے، سے توجہ ہٹنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے بیانیے کے سیاسی اور قومی سلامتی سے متعلق اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ان کے مطابق اگر کسی کو معدنیات کے ٹھیکوں یا قدرتی وسائل کے استعمال پر اعتراض ہے تو اس کا حل متعلقہ ریکارڈ، معاہدوں اور مالی تفصیلات کی جانچ پڑتال ہے، نہ کہ شواہد کے بغیر کسی ادارے پر قبضے کا الزام عائد کرنا۔
مولانا فضل الرحمان کی جماعت کو درپیش سیاسی چیلنجز
ضیغم خان نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حکمتِ عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کو موجودہ سیاسی صورتِ حال میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے، ان کے مطابق ماضی میں مذہبی سیاسی جماعتوں کو مشکلات پیش آئیں تو مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، لیکن پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی عروج کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے لیے اپنا ووٹ بینک اور سیاسی نشستیں برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
ضیغم خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سنجیدہ اور تجربہ کار سیاست دان ہیں اور انہیں سیاسی محاذ آرائی کی نوعیت، وقت اور حدود کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، ’مولانا جانتے ہیں کہ کب کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے ساتھ اختلافات بڑھانے ہیں، کب مذاکرات کی راہ اختیار کرنی ہے اور کس موقع پر اپنے سیاسی مؤقف کو زیادہ نمایاں کرنا ہے۔‘
مزید پڑھیں: افواج پاکستان ہماری ریڈلائن، مولانا فضل الرحمان کی تنقید بلاجواز، کھیل داس کوہستانی
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں، تاہم حالیہ سیاسی واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب رابطے اور مذاکرات بھی جاری رہے ہیں۔
ضیغم خان کے مطابق گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو ملاقات کے لیے مدعو کیا اور ان سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ معاملات بہتر بنانے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ ان کے بقول، مولانا وزیراعظم کی دعوت پر ملاقات کے لیے گئے اور سیاسی رابطوں میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، مگر اس کا مطلب کیا ہے؟
اسی تناظر میں ضیغم خان کا کہنا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان یا ان کی جماعت کا براہِ راست کردار نہیں ہے تو وہ اس فیصلے کی سیاسی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے اپنی الگ سیاسی حیثیت نمایاں کرنے کے خواہاں ہوسکتے ہیں۔
ان کے مطابق مولانا کے حالیہ بیانات کو اسی سیاسی پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، تاہم یہ ان کا تجزیہ ہے اور اس کی تصدیق کے لیے متعلقہ سیاسی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان اس معاملے پر اپنا الگ سیاسی مؤقف اختیار کرتے ہیں تو دیگر اپوزیشن جماعتیں، بشمول عوامی نیشنل پارٹی، بھی اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق دہشتگردی کے خاتمے جیسے حساس معاملے پر سیاسی مفادات کو قومی سلامتی کی ضروریات پر غالب نہیں آنا چاہیے۔










