وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اس کی آئینی حیثیت، مدت اور صوبائی حکومت کے اختیارات سے متعلق اہم سوالات سامنے آگئے ہیں۔
ایمرجنسی کا نفاذ بنیادی طور پر یہ ہوتا ہے کہ انتظامی اختیارات صوبائی حکومت سے لے کر وفاقی حکومت کو منتقل کر دیے جاتے ہیں اور وفاقی حکومت ان اختیارات کو اپنے نمائندے یعنی گورنر کے ذریعے سے استعمال کرتی ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 234 کے تحت اگر صدر مملکت ایمرجنسی کا نفاذ کریں تو اس کی مدت دو ماہ ہوتی ہے جس کے بعد دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد مدت دو ماہ مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔
جبکہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ ایمرجنسی جو کسی بیرونی حملے یا کسی دیگر صورت میں نافذ کی جاتی ہے اس کی مدت کا تعین آئین میں نہیں کیا گیا۔
آج وفاقی حکومت نے صوبہ خیبر پختونخوا میں جس ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے اس میں آئین کے دونوں آرٹیکلز کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ 25 فروری 2009 کو پنجاب میں جب گورنر راج لگایا گیا تھا تو وہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت لگایا گیا تھا۔
اس اقدام سے یہ واضح ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ غیر معینہ مدت کے لیے ہو سکتا ہے۔
آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی کوئی مدت مقرر نہیں، شاہ خاور ایڈووکیٹ
سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان شاہ خاور ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہیں بھی گورنر راج کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی۔ دراصل ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کے اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل ہوجاتے ہیں، جو ان اختیارات کو اپنے نمائندے یعنی گورنر کے ذریعے استعمال کرتی ہے، اسی لیے اسے گورنر راج کہا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے اور اس کی مدت 2 ماہ ہوتی ہے، جبکہ آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی کوئی مدت مقرر نہیں۔
شاہ خاور کے مطابق خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے قائم کی گئی الگ کونسل کے حوالے سے ابہام موجود ہے کہ یہ کونسل کس طریقہ کار کے تحت کام کرے گی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) اس فیصلے کی مخالفت کرے گی، کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ
جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اور سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل کامران مرتضیٰ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کی شق ایک کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ صوبائی اسمبلی کی سفارش پر کیا جاتا ہے، تاہم اس معاملے میں چونکہ اقدام صوبائی اسمبلی کے خلاف تھا، اس لیے وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت نے آرٹیکل 232(1) کے تحت ایمرجنسی نافذ کی۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح آرٹیکل 234(1) کا استعمال اس لیے کیا گیا تاکہ اختیارات ایک حکومت سے لے کر دوسری حکومت کو منتقل کیے جاسکیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہ آیا جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی وفاقی حکومت کے اس فیصلے میں شامل تھی، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بالکل نہیں، بلکہ مولانا فضل الرحمان نے رات ہی یہ معاملہ حل کروا دیا تھا اور پی ٹی آئی نے بھی اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرلی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اس پیشرفت سے وزیراعظم کو آگاہ نہیں کیا جاسکا کیونکہ وہ سو چکے تھے، تاہم وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ تک یہ بات پہنچا دی گئی تھی۔ اس کے باوجود اگلی صبح وفاقی حکومت نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ کامران مرتضیٰ نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اس فیصلے کی مخالفت کرے گی۔
آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت ایمرجنسی کا نفاذ کر سکتے ہیں، ایڈووکیٹ حسنین کاظمی
سینیئر وکیل حسنین کاظمی ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت اس صورت میں ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں جب وہ سمجھیں کہ صوبائی حکومت کے معاملات درست انداز میں نہیں چل رہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کی ایڈوائس پر ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے معاملے میں غالباً یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔














