فرانس میں مہنگائی اور عوامی خدمات کی خراب صورت حال کے خلاف مظاہروں کے دوران ممکنہ بدامنی اور لوٹ مار روکنے کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں، جبکہ پیرس میں فوج بھی اہم مقامات پر گشت کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیرس کے نواح میں فائرنگ، 12 سالہ بچی سمیت 5 افراد زخمی، ایک ہلاک
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکام نے دکانوں، سرکاری عمارتوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔ پیرس میں کئی دکانیں بند کردی گئی ہیں، جبکہ لوور میوزیم، میوزے دورسے اور اوپیرا ہاؤس سمیت اہم ثقافتی مقامات بھی بند ہیں۔ میٹرو کے 20 سے زائد اسٹیشنوں پر آمدورفت روک دی گئی ہے۔
🚨🇫🇷 BREAKING: ARMOURED GENDARMERIE VEHICLES DEPLOYED AROUND THE ÉLYSÉE PALACE
France is bracing for another day of protests on Saturday, October 24, as security forces step up their presence in Paris.
The heavily armoured Centaure vehicles are part of an expanded security…
— Nova Intel (@intel_nova) October 24, 2026
حکام نے بدامنی کے خدشے کے پیش نظر کئی شہروں میں مظاہروں پر پابندیاں یا سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ گزشتہ ہفتے مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے تھے۔











