پیرس کے نواحی علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 5 دیگر زخمی ہو گئے، جن میں ایک 12 سالہ بچی بھی شامل ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اسے ’نسل پرستانہ دہشتگرد حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ فرانسیسی جمہوریہ اور قوم کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
مذکورہ واقعہ جمعے کی صبح پیرس کے جنوب مغربی علاقے ٹراپ اور اس کے قریبی قصبے لا وریئر میں پیش آیا، جہاں مسلح شخص نے اپنی گاڑی سے مختلف مقامات پر فائرنگ کی۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس میں پرتشدد مظاہرے، میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا
حکام کے مطابق حملہ آور بظاہر تارکینِ وطن پس منظر رکھنے والے افراد کو نشانہ بنا رہا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔
زخمیوں میں سے تین کی حالت بدستور تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے مقام کا دورہ کرتے ہوئے صدر میکرون نے کہا کہ لوگوں کو ان کی جلد کے رنگ یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ان نظریات کے سامنے کسی قسم کی پسپائی اختیار نہ کریں جو معاشرے میں جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔
France Terror Attack: One Killed, Four Injured in Drive-By Shooting in Paris
An armed French man, Kevin, opened fire, specifically targeting people of Arab and African origins in Paris. At least one person was killed, four seriously injured — including a 12-year-old girl who was… pic.twitter.com/suDaNKUzoQ
— DOAM (@doamuslims) October 23, 2026
فرانس کے قومی انسدادِ دہشتگردی پروسیکیوٹر آفس کے مطابق واقعے کے محرکات ابھی پوری طرح واضح نہیں، تاہم بظاہر یہ کسی دہشت گردانہ منصوبے سے منسلک قتل کا معاملہ ہے۔
حکام نے تحقیقات میں دہشتگرد گروہ کے ساتھ مل کر افراد کے خلاف جرائم کی تیاری کی سازش اور کیٹیگری اے کے اسلحے کے غیر قانونی قبضے کے پہلو بھی شامل کیے ہیں۔
فرانسیسی میڈیا نے مشتبہ شخص کی شناخت 39 سالہ کیون ٹی کے نام سے ظاہر کی ہے، پروسیکیوٹر آفس کے مطابق اس کے خلاف ماضی میں 4 سزائیں ریکارڈ پر تھیں، تاہم یہ ریکارڈ خودکار طور پر حذف ہو چکا تھا۔
Macron says that today’s shooting in Trappes was aimed at migrants and the first terror attack in French history against a group of people targeted because of their skin and religion.
He is naturally lying as there have been several such Islamist attacks in France in recent… pic.twitter.com/BdpmJ0Azg4
— Visegrád 24 (@visegrad24) October 23, 2026
مقامی میڈیا کے مطابق وہ پولیس کے علم میں تھا، لیکن خفیہ اداروں کی نگرانی میں شامل نہیں تھا، حکام نے بتایا کہ اسے فرانس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھے جانے والے افراد کی فہرست میں بھی شامل نہیں کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق مشتبہ شخص کے قریبی خاندان کے ایک فرد کو بھی جمعے کے روز حراست میں لیا گیا۔
مختلف مقامات پر اندھا دھند فائرنگ
ٹراپ کے میئر علی رابح کے مطابق حملہ آور نے جمعے کی صبح اپنی گاڑی سے کئی افراد پر فائرنگ کی، عینی شاہدین کے مطابق وہ سرمئی رنگ کی رینالٹ کلیو گاڑی میں مختلف محلوں سے گزرا اور راستے میں فائرنگ کرتا رہا۔
میئر نے بتایا کہ حملہ آور نے ٹراپ میں ایک پیٹرول پمپ، طبی مرکز اور بچوں کے کھیلنے کی جگہ کے قریب لوگوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد وہ قریبی قصبے لا وریئر کی جانب روانہ ہو گیا۔ ان کے بقول، بظاہر حملہ آور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
پولیس یونین کے ایک عہدیدار کے مطابق مشتبہ شخص کو لا وریئر میں مرکزی شاہراہ این 10 پر حراست میں لیا گیا۔
12 سالہ بچی بھی فائرنگ کا نشانہ بن گئی
زخمی 12 سالہ بچی کی والدہ نے فرانسیسی نشریاتی ادارے آر ٹی ایل کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو 8 گولیاں لگیں اور اسے آپریشن کی ضرورت پیش آئی۔
انہوں نے سوال کیا کہ کوئی شخص ایک بچے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ والدہ کے مطابق ان کی بیٹی نے سر پر اسکارف پہن رکھا تھا، جس پر انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید اسی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی فرانس میں پیدا ہوئی اور ٹراپ میں پلی بڑھی ہے، اس لیے اسے بھی فرانس میں رہنے اور اپنی زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔
جنگِ عظیم دوم کے دور کا اسلحہ استعمال ہونے کا شبہ
مقامی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ حملے میں نسبتاً پرانے طرز کا نیم خودکار ہتھیار استعمال کیا گیا، جس سے وقفے وقفے سے گولیاں چلائی گئیں۔ اخبار ’لے پاریزیئن‘ کے مطابق زیرِ استعمال اسلحہ دوسری جنگِ عظیم کے دور کا تھا۔
فرانسیسی حکام واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں، جن میں حملے کے محرکات، ممکنہ نسلی یا مذہبی بنیاد اور دہشتگردی سے تعلق شامل ہیں، تاحال حملے کی حتمی وجہ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔











