مونالیزا تک رسائی بند، احتجاج کے پیش نظر پیرس کے عجائب گھر مقفل، سڑکیں میدان جنگ میں تبدیل

ہفتہ 24 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مونالیزا تک رسائی سے محروم سیاح ہفتے کے روز مایوسی کی حالت میں پیرس کے لوور میوزیم کے بند دروازوں سے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے رہے کیونکہ نئے احتجاج سے قبل احتیاطی طور پر پیرس بھر میں آرٹ اسپیسز اور عجائب گھر بند کر دیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس میں مظاہروں کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس میں فوج بھی گشت پر

یہ بندشیں ملک بھر میں مہنگائی اور بوسیدہ انفراسٹرکچر کے حوالے سے ہونے والے احتجاج کے 7 دن بعد ہوئیں جس نے ملک کو گزشتہ کئی برسوں میں فرانس میں دیکھے گئے سب سے شدید فسادات اور جھڑپوں میں دھکیل دیا تھا۔

تشدد اور نقصان نے حکومت کو ہفتے کے مظاہروں سے قبل علاقائی کرفیو نافذ کرنے اور عوامی مقامات کو بند کرنے پر مجبور کیا۔ بندش کا اطلاق دارالحکومت کے بیشتر ثقافتی شعبے پر ہوا جس میں اورانجیری، ژو ڈے پوم اور پکاسو میوزیم شامل ہیں۔ دوسری جانب، پورا ٹیولریز گارڈنز کمپلیکس جس سے گزر کر لووْر سے باہر نکلا جاتا ہے کو بھی بلاک کر دیا گیا۔

اس سلسلے میں کینیڈین شہری ڈون ناؤشچک نے کہا کہ ہم کم از کم اہرام دیکھنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اتنی زیادہ سیکیورٹی ہے کہ آپ سوچیں گے کہ یہ میوزیم کو محفوظ بنانے کے لیے کافی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیرس کے ارد گرد بندوقوں کے ساتھ اتنے سارے پولیس اہلکاروں کو دیکھنا تھوڑا عجیب ہے۔ ہم بندوقوں کے عادی ہیں لیکن اس طرح نہیں۔

مزید پڑھیے: پیرس کے نواح میں فائرنگ، 12 سالہ بچی سمیت 5 افراد زخمی، ایک ہلاک

بندش کا اطلاق اورانجیری، ژو ڈے پوم اور پکاسو میوزیم پر بھی ہوا ہے جبکہ پورا ٹیولریز گارڈنز کمپلیکس بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔ پیرس اوپیرا نے بھی پالیس گارنیئر اور اوپیرا باسٹل میں آپریشنز بند کر دیے ہیں۔

اس ہلچل نے پرفارمنگ آرٹس سیکٹر کو بھی متاثر کیا اور پیرس اوپیرا نے عملے اور سامعین کی سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے دونوں مراکز پالیس گارنیئر اور اوپیرا باسٹل میں آپریشنز بند کر دیے۔

مزید برآں ثقافتی مراکز نے جمعے کو بندش کے بارے میں وارننگز پوسٹ کیں لیکن کچھ لوگوں نے چیک کرنے کی زحمت نہیں کی۔

پیرس سمیت فرانس بھر میں پرتشدد مظاہرے، 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات

فرانس کے دارالحکومت پیرس سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف شروع ہونے والے پرتشدد مظاہرے آج 24 اکتوبر کو دوسرے ہفتے بھی شدید ترین صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے شدید فسادات اور لوٹ مار کے بعد ہفتے کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے ساتھ سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق پیرس کی سڑکیں میدان جنگ کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ ہفتے کو لیون، لِل، ٹولوز اور نانٹ میں پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس فائر کی۔ یہ کارروائی وزیر داخلہ کی جانب سے خبردار کیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہوئی کہ تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اکتوبر کے آغاز میں اسکولوں کی ناگفتہ بہ حالت کے خلاف طلبہ سے شروع ہونے والی یہ احتجاجی تحریک اب بائیں بازو کی تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور ’یلو ویسٹ‘ تحریک کی شمولیت کے بعد ایک بڑے ملک گیر بحران میں تبدیل ہو چکی ہے جس نے فرانسیسی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

حکومت نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اسلحہ ضبط کیا گیا ہے اور 135 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مشتعل مظاہرین کی جانب سے گاڑیوں کو نذر آتش کرنے، دکانوں کے شیشے توڑنے اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد پیرس، نیس اور لیون جیسے متاثرہ شہروں میں رات کا جزوی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: فرانس میں ہنگاموں کا خدشہ، پیرس میں جزوی کرفیو پیر تک بڑھا دیا گیا

حالات پر قابو پانے کے لیے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت نے پیرس سمیت ملک بھر میں 70,000 سے زائد اضافی پولیس اہلکار اور پیراملٹری فورسز تعینات کر دی ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کو ہنگامہ آرائی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے پیرس میں کاروباری مراکز بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی شدید متاثر ہے۔

دوسری جانب، ثقافتی شعبہ بھی مکمل طور پر بند ہے۔ مایوس سیاح لوور کے بند گیٹس سے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے رہے جو مونالیزا تک رسائی سے محروم تھے۔ بندش کا اطلاق اورانجیری، ژو ڈے پوم اور پکاسو میوزیم پر بھی ہوا ہے جبکہ پورا ٹیولریز گارڈنز کمپلیکس بھی بلاک کر دیا گیا ہے۔ پیرس اوپیرا نے بھی پالیس گارنیئر اور اوپیرا باسٹل میں آپریشنز بند کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پیرس: پولیس کنٹرول کھو بیٹھی، کئی علاقوں میں کرفیو اور مظاہروں پر پابندی عائد

ادھر اپوزیشن جماعتوں اور تجارتی تنظیموں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو اس عوامی غیظ و غضب کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی تو یہ بحران مزید سنگین سیاسی عدم استحکام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز چیمپیئن شپ 2026 کے شیڈول کا اعلان، پاک بھارت ٹیمیں 22 نومبر کو آمنے سامنے ہوں گی

برطانیہ میں گھڑیاں پیچھے، پاکستان سے وقت کا فرق کتنے گھنٹے ہوگا؟

صدرآصف علی زرداری کا دورہ جرمنی، سیمنز کا شعبۂ صحت میں تعاون، مفاہمتی یادداشتوں کے لیے جلد پاکستان آنے کا اعلان

لاہور: بارش اور ژالہ باری، فضائی آلودگی میں قدرے کمی آگئی

کے پی: پی پی ٹی آئی تنظیم برقرار، جنید اکبر کی صدارت بحال، اندرونی اختلافات کے باوجود اہم ترین نوٹیفیکیشن جاری

ویڈیو

اسلام آباد میں بارش کے بعد ملک بھر میں کہاں برسات کا امکان ہے؟

عالمی تنازعات سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ، معاشی اصلاحات ناگزیر ہیں، وزیر خزانہ

بابر اعظم اور شاداب خان توقعات پر پورے نہیں اتر رہے، شاہین آفریدی بہتر کپتان ہیں، ماجد بھٹی

کالم / تجزیہ

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟

باغ جل رہا ہے