کیا آپ کبھی سوچتے ہیں کہ اگر آپ کو کسی ریچھ، گھوڑے، ہاتھی یا کسی چھوٹے سے چوہے کے ساتھ دوڑ لگانی پڑ جائے تو کون جیتے گا؟ بظاہر یہ ایک دلچسپ مگر غیرسنجیدہ سوال محسوس ہوتا ہے لیکن سائنس دانوں نے سیکڑوں جانوروں کی دوڑنے کی رفتار کا مطالعہ کرکے اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتائج خاصے حیران کن ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کتے انسانوں کے دوست کتنے ہزار سال پہلے بنے؟
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جانور مختصر فاصلے پر دنیا کے تیز ترین انسانوں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں تاہم طویل فاصلے تک مسلسل دوڑنے کی صلاحیت میں انسان کو ایک خاص برتری حاصل ہے۔
مثال کے طور پر ایک سیاہ ریچھ 48 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اس لیے اس سے تیز بھاگنے کی کوشش کرنا نہ صرف بے سود بلکہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے کیونکہ بھاگنے سے بعض اوقات ریچھ کے تعاقب کرنے کا ردعمل بھی متحرک ہوسکتا ہے۔
سائنس دان کئی دہائیوں سے جانوروں کی زیادہ سے زیادہ رفتار ریکارڈ کر رہے ہیں۔ ماضی میں یہ رفتار معلوم کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔
سنہ 1920 کی دہائی میں قدرتی تاریخ کے ایک ماہر نے شمالی امریکا کے تیز رفتار ہرنوں کے ساتھ اپنی گاڑی دوڑائی اور انہیں تیز بھگانے کے لیے فضا میں فائرنگ بھی کی۔ بعدازاں سنہ 1980 کی دہائی میں چوہوں جیسے چھوٹے جانوروں کو دوڑنے والی مشینوں پر دوڑا کر ان کی رفتار ناپنے کے تجربات کیے گئے۔
مزید پڑھیے: ’بھنگ کا رنگ‘: کتا برطانیہ کے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گیا، ریسکیو ٹیم واپس لائی
اب جدید دور میں جی پی ایس ٹریکرز کی مدد سے جانوروں کی قدرتی ماحول میں دوڑنے کی رفتار بھی ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں جنگلی چیتوں کی رفتار 93 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔
انسان کن جانوروں کو دوڑ میں ہرا سکتا ہے؟
جانوروں کی رفتار کا موازنہ کرنے کے لیے سائنس دانوں نے انسانی دوڑ کے نتائج کو بھی سامنے رکھا ہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص 5 کلومیٹر کا فاصلہ 40 منٹ میں طے کرتا ہے تو اس کی رفتار جنگل میں پائے جانے والے ایک چھوٹے چوہے جیسی ہے جسے ووڈ لینڈ وول کہا جاتا ہے۔
اگر یہی فاصلہ 30 منٹ میں مکمل کیا جائے تو رفتار چوہے یا ہیمسٹر کے برابر ہوگی جبکہ 25 منٹ میں 5 کلومیٹر دوڑنے والا شخص گھریلو چوہے یا سمندری اِگوانا کی رفتار سے دوڑ رہا ہوگا۔
اسی طرح 20 منٹ میں یہ فاصلہ طے کرنے والے شخص کی رفتار دھاری دار اسکنک یا گراؤنڈ ہاگ کے برابر ہوسکتی ہے۔
سابق اولمپک ایتھلیٹ اینڈی بیڈلے نے ایک مرتبہ 5 کلومیٹر کی دوڑ 13 منٹ 48 سیکنڈ میں مکمل کرنے کا ریکارڈ بنایا تھا. ان کی رفتار ایک چھوٹے اچھلنے والے ممالیہ جانور لانگ نوزڈ پوٹورو کے برابر قرار دی گئی ہے۔
تاہم یہاں ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ جانوروں کی زیادہ سے زیادہ رفتار کے اعدادوشمار ہیں جنہیں وہ مسلسل برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اس لیے طویل دوڑ میں انسان ان میں سے بعض کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔
کیا بڑے جانور ہمیشہ زیادہ تیز دوڑتے ہیں؟
عام خیال ہے کہ جس جانور کا جسم جتنا بڑا اور عضلات جتنے طاقتور ہوں گے، وہ اتنی ہی تیزی سے دوڑے گا لیکن سائنسی اعدادوشمار اس تصور کی مکمل تائید نہیں کرتے۔
مزید پڑھیں: انسان کے مزاج کتنی اقسام کے، قدیم نظریہ کیا ہے؟
جرمنی کے شہر لائپزگ میں قائم جرمن سینٹر فار انٹیگریٹیو بائیو ڈائیورسٹی ریسرچ سے وابستہ ماہر حیاتیات میریم ہرٹ نے تقریباً 350 زمینی جانوروں کی رفتار سے متعلق اعدادوشمار جمع کیے تھے۔
سنہ 2017 میں ان کی ٹیم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ جانور کے جسمانی وزن اور اس کی رفتار میں کیا تعلق ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ سب سے بڑے جانور لازماً سب سے تیز نہیں ہوتے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بڑے جسم کو حرکت میں لانے اور زیادہ رفتار حاصل کرنے کے لیے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ جس طرح بڑے طیارے کو اڑان بھرنے کے لیے طویل رن وے چاہیے اسی طرح بڑے جانور کو بھی اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار تک پہنچنے میں نسبتاً زیادہ وقت لگتا ہے۔
اس دوران ان کے عضلات میں موجود توانائی بھی خرچ ہوتی رہتی ہے جس کے باعث وہ اپنی ممکنہ زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کرنے سے پہلے تھک سکتے ہیں۔
مثلاً افریقی بش ہاتھی کی زیادہ سے زیادہ رفتار 35 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوسکتی ہے لیکن اسے اس رفتار تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے 7 سیکنڈ لگتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہاتھی 100 میٹر کا فاصلہ تقریباً 14 سیکنڈ میں طے کرسکتا ہے۔ یہ رفتار بعض تربیت یافتہ انسانوں کے لیے قابل مقابلہ ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’سپر ڈاگ‘ بنانے کی کوشش جو ناکام ہوکر کتوں کی دنیا بدل گئی
دنیا کے تیز ترین انسانوں میں شمار ہونے والے یوسین بولٹ نے اپنے عالمی ریکارڈ کے دوران تقریباً 44 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار حاصل کی تھی۔ اس رفتار سے وہ سفید گینڈے کو پیچھے چھوڑ سکتے تھے جس کی رفتار تقریباً 40 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے لیکن بھورے ریچھ یا قطبی ریچھ سے آگے نکلنا ان کے لیے بھی مشکل ہوتا، کیونکہ یہ تقریباً 48 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب زرافے بھی خاصے تیز رفتار ہوتے ہیں اور تقریباً 57 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔ اسی طرح موس نامی بڑے ہرن کی رفتار تقریباً 55 کلومیٹر فی گھنٹہ اور زیبرا کی 70 کلومیٹر فی گھنٹہ اور قطبی علاقوں میں پائے جانے والے رینڈیئر کی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
مختصر دوڑ میں جانور آگے، طویل فاصلے میں انسان کو برتری
ماہرین کے مطابق مختصر فاصلے کی تیز دوڑ اور طویل فاصلے تک مسلسل دوڑنے کے لیے جسم میں مختلف قسم کے عضلات کام کرتے ہیں۔
سابق اولمپک ایتھلیٹ اور 1500 میٹر دوڑ کے ماہر اینڈی بیڈلے کے مطابق تیز رفتار دوڑ کے لیے فاسٹ ٹوئچ عضلات اہم ہوتے ہیں جو فوری طاقت اور رفتار فراہم کرتے ہیں، لیکن جلد تھک بھی جاتے ہیں۔
اس کے برعکس سلو ٹوئچ عضلات نسبتاً کم دھماکہ خیز طاقت پیدا کرتے ہیں لیکن طویل وقت تک کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کوئی اسپرنٹر مختصر فاصلے میں غیرمعمولی رفتار حاصل کرسکتا ہے لیکن طویل فاصلے کی دوڑ میں اس کی رفتار برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
مزید پڑھیں: پرندے محض کھڑکی سے بھی دیکھنا یادداشت کے لیے مفید، جانیے اس مخلوق سے انسیت کے دیگر فوائد
بیڈلے کا کہنا ہے کہ اپنے اولمپک دور میں وہ 100 میٹر کا فاصلہ تقریباً 11.7 سیکنڈ میں طے کرسکتے تھے لیکن 500 میٹر کی دوڑ میں کسی بہترین اسپرنٹر کو سخت مقابلہ دے سکتے تھے اور 1500 میٹر میں اسے شکست بھی دے سکتے تھے۔
جانوروں کی دنیا میں بھی یہی فرق دیکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر چیتا دنیا کے تیز ترین جانوروں میں شامل ہے لیکن وہ اپنی زیادہ سے زیادہ رفتار صرف چند سیکنڈ تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ شکار کے دوران اس کی دوڑ کا عمومی فاصلہ بھی 200 میٹر سے کم ہوتا ہے۔
اس کے برعکس شمالی امریکا میں پایا جانے والا پرانگ ہارن ہرن 10 منٹ میں 11 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے دوران اس کی اوسط رفتار 65 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق شکاری جانوروں کے مقابلے میں شکار بننے والے جانوروں کے لیے تیز رفتار ہونا زندگی اور موت کا معاملہ ہوتا ہے اس لیے قدرتی انتخاب کے نتیجے میں ان میں غیرمعمولی رفتار پیدا ہوئی ہے۔
انسانی جسم کی ساخت بھی طویل فاصلے کی دوڑ کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ انسان کا نسبتاً کم بالوں والا جسم اور پسینہ خارج کرنے کا قدرتی نظام اسے دوڑ کے دوران جسمانی حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بعض ارتقائی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ خصوصیات انسانوں میں اس لیے پروان چڑھیں تاکہ وہ طویل فاصلے تک اپنے شکار کا تعاقب کرکے اسے تھکا سکیں۔
کیا انسان میراتھن میں جانوروں کو شکست دے سکتا ہے؟
طویل فاصلے کی دوڑ میں انسان کی صلاحیت غیرمعمولی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جانوروں کی دنیا میں سب سے بہترین میراتھن رنر ہے۔
مزید پڑھیے: چاول کی بھوسی سے بنے ماحول دوست گھر، کیا یہ لکڑی و کنکریٹ کی جگہ لے لیں گے؟
اس حوالے سے سائنسی معلومات محدود ہیں کیونکہ جانوروں کو میراتھن جیسی طویل دوڑ میں ان کی آخری حد تک دوڑانا نہ صرف مشکل بلکہ غیر اخلاقی بھی ہوسکتا ہے۔
تاہم دستیاب اعدادوشمار کے مطابق کچھ جانور طویل فاصلے میں بھی انسانوں کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
مثلاً سائبیرین ہسکی نسل کے کتے طویل فاصلے تک مسلسل دوڑنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ الاسکا میں ہونے والی اڈیٹاروڈ ٹریل سلیڈ ڈاگ ریس تقریباً 1600 کلومیٹر طویل ہوتی ہے اور اس میں شامل بعض کتے پوری مسافت طے کرتے ہیں۔
اس دوڑ کا ریکارڈ تقریباً 7 دن اور 14 گھنٹے ہے۔ اس کے مقابلے میں اسی نوعیت کی ایک طویل انسانی دوڑ میں اس فاصلے کو پیدل مکمل کرنے کا ریکارڈ 19 دن، 9 گھنٹے اور 38 منٹ ہے۔
اسی طرح برداشت کے لیے تربیت یافتہ گھوڑا بھی ہموار راستے پر میراتھن میں زیادہ تر انسانوں کو شکست دے سکتا ہے۔
ویلز میں ہر سال انسانوں اور گھوڑوں کے درمیان تقریباً 35 کلومیٹر طویل پہاڑی دوڑ کا مقابلہ بھی منعقد ہوتا ہے۔ اس میں عموماً گھوڑے کامیاب رہتے ہیں تاہم بعض اوقات انسان بھی جیت جاتے ہیں۔
انتہائی طویل فاصلے کی دوڑ میں انسان کی ایک اور غیرمعمولی صلاحیت اس کی ذہنی برداشت ہے۔
امریکا کے شہر نیویارک کے علاقے کوئنز میں ہونے والی 4989 کلومیٹر طویل سیلف ٹرانسینڈنس ریس اس کی ایک مثال ہے۔ اس دوڑ میں ایک بلاک کے گرد مسلسل چکر لگا کر ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔ اس کا ریکارڈ بنانے والے شخص نے رات کو 6 گھنٹے آرام کے وقفے کے ساتھ 40 دن سے زیادہ عرصے تک دوڑ کر یہ فاصلہ مکمل کیا۔
اینڈی بیڈلے کے مطابق طویل دوڑ میں اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ انسان تکلیف اور تھکن کے باوجود کتنی دیر تک خود کو دوڑنے کے لیے تیار رکھ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں انسان کی یہی ذہنی صلاحیت اسے دیگر جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔
تاہم اگر کسی شخص کا سامنا کسی غصے میں بھرے گلہری یا بجو سے ہوجائے تو اسے اپنی رفتار پر زیادہ بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔ ان چھوٹے جانوروں کی رفتار بھی تقریباً 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے اور اپنے چھوٹے جسم کی وجہ سے وہ چند ہی لمحوں میں اپنی پوری رفتار حاصل کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خون کے چند قطروں سے بیماریوں کی تشخیص کا دعویٰ، ارب پتی سے سزا یافتہ جعلساز تک الزبتھ ہومز کا حیران کن سفر
یوں مختصر دوڑ میں جانوروں کا مقابلہ کرنا انسان کے لیے خاصا مشکل ہوسکتا ہے لیکن طویل فاصلے تک مسلسل دوڑنے اور تھکن برداشت کرنے کی صلاحیت میں انسان بھی قدرت کا ایک غیرمعمولی شاہکار ہے۔











