غروب آفتاب کے بعد خواتین کے لیے گھر سے باہر چہل قدمی مشکل، مسئلے کے حل کے لیے مرد کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خواتین کی بڑی تعداد سورج غروب ہونے کے بعد اکیلے باہر ورزش ہا چہل قدمی کرتے وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے اور انجانے خوف اور ہراساں کیے جانے کے ڈر کے باعث اپنے معمولات اور راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ورزش نے خاتون کو پارٹیوں پر انحصار کی عادت سے کس طرح نکالا؟

جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ورزش کو اہم قرار دیا جاتا ہے تاہم خواتین کے لیے باہر نکل کر چہل قدمی یا دوڑ لگانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ خاص طور پر سردیوں میں دن چھوٹے ہونے اور شام جلد ڈھلنے کے باعث تحفظ کے خدشات ان کی جسمانی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف پاکستان یا پڑوسی ممالک میں ہی نہیں بلکہ برطانیہ میں بھی درپیش ہے جہاں خواتین اندھیرا ہونے کے بعد اکیلے ورزش یا چہل قدمی کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہیں۔

برطانیہ میں خواتین کو اندھیرے کے بعد باہر ورزش کرنے کے حوالے سے درپیش مسائل اجاگر کرنے کے لیے ایک مہم شروع کی گئی ہے جس کا مقصد خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور انہیں بلاخوف جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینا ہے۔

اندھیرے کے بعد خواتین کے تحفظ کے خدشات

برطانوی ادارے اسپورٹ انگلینڈ کی مہم ’لیٹس لفٹ دی کرفیو ‘ کے تحت جاری کردہ تحقیق کے مطابق جنوب مغربی انگلینڈ میں 58 فیصد خواتین نے کہا کہ وہ اندھیرا ہونے کے بعد اکیلے ورزش کرتے ہوئے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں جبکہ ملک بھر میں کی گئی تحقیق میں یہ شرح 55 فیصد بتائی گئی۔

مہم کے منتظمین کے مطابق گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹہ پیچھے کیے جانے اور شام جلد ہونے کے بعد بہت سی خواتین کے لیے باہر ورزش کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس صورت حال کو خواتین پر عائد ایک غیر اعلانیہ کرفیو سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ تحفظ کے خدشات کے باعث وہ اپنی مرضی کے وقت اور مقامات پر جسمانی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پاتیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 2 تہائی خواتین کے لیے ذاتی تحفظ کے خدشات، خراب موسم، وقت کی کمی یا ورزش کے لیے تحریک نہ ہونے کے مقابلے میں زیادہ بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیےؒ ورزش اور بھرپور نیند کے بغیر بھی توانا: 80 سالہ ٹرمپ آخر کھاتے کیا ہیں؟

مہم سے وابستہ کیٹ پیئرز کے مطابق خواتین کو جنسی ہراسانی، نامناسب رویوں اور کسی کے تعاقب کیے جانے کا خدشہ رہتا ہے جس کے باعث وہ اندھیرے میں باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو صرف اس خوف کی وجہ سے یہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کہاں، کب اور کس طرح جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں۔

خواتین اپنے معمولات تبدیل کرنے پر مجبور

تحقیق اور مقامی رننگ گروپس سے وابستہ افراد کے مطابق اندھیرا ہونے کے بعد تحفظ کے خدشات خواتین کے روزمرہ معمولات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض خواتین دوڑنے کے لیے اپنے راستے تبدیل کرلیتی ہیں اور بعض مخصوص علاقوں میں جانے سے گریز کرتی ہیں جبکہ کچھ خواتین شام کے وقت ورزش کرنا ہی چھوڑ دیتی ہیں۔

شروپ شائر کے رننگ گروپ شروپ شائر شفلرز سے وابستہ کیٹ بینتھم کے مطابق گروپ کی خواتین نے بتایا ہے کہ وہ سردیوں کی شاموں میں اپنے معمولات تبدیل کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنسی ہراسانی اور خوف کے مسائل صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں، بلکہ چھوٹے اور نسبتاً پُرامن سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی خواتین کو ایسے خدشات لاحق ہوسکتے ہیں۔

پونٹس بری رنرز سے وابستہ رننگ لیڈر سارہ نائٹ کے مطابق اندھیرے میں اکیلے دوڑتے ہوئے تحفظ کا احساس برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات گاڑیوں میں گزرنے والے افراد کی جانب سے آوازیں کسنے جیسے واقعات بھی خواتین کو غیر محفوظ محسوس کرا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کمپیوٹر اور موبائل دیکھتے ہوئے گردن پر 27 کلو وزن کا دباؤ: درد و اکڑن سے بچنے کے لیے 5 مفید ترین ورزشیں

ان کے مطابق بعض افراد ایسے رویوں کو محض مذاق سمجھتے ہیں، لیکن ان کا سامنا کرنے والی خواتین کے لیے یہ تجربات پریشانی اور خوف کا باعث بن سکتے ہیں۔

اجتماعی واک اور رننگ ایونٹس کا انعقاد

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ’لیٹس لفٹ دی کرفیو ‘ مہم کے تحت خواتین کو منظم واکس، اجتماعی دوڑ اور دیگر کمیونٹی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ہے۔ ملک بھر میں 390 سے زائد سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا گیا تاکہ خواتین کے تحفظ کے مسئلے پر آگاہی بڑھائی جاسکے اور انہیں گروپ کی صورت میں ورزش کرنے کے مواقع ملیں۔

اسپورٹ انگلینڈ کے تحت چلنے والی ’دِس گرل کین‘ مہم کی جانب سے شروع کیے گئے اس اقدام کا مقصد مختلف عمروں، جسمانی ساخت، صلاحیتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو بلاخوف جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

برسٹل میں قائم خواتین کے رننگ گروپ ’’دِس وومن رنز‘‘ نے بھی اس مہم میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ اس گروپ کا مقصد خواتین کو دوڑنے کی عادت اپنانے میں مدد دینا اور انہیں ایک ایسی اجتماعی جگہ فراہم کرنا ہے جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ورزش کرسکیں۔

گروپ کی کمیونٹی لیڈر ریچل جیمز کے مطابق وہ شام کے وقت دوڑتے ہوئے اپنے راستے کا خاص خیال رکھتی ہیں اور ایسے کپڑے پہنتی ہیں جن پر روشنی پڑنے سے وہ دور سے نمایاں دکھائی دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راستے میں نوجوانوں کے گروپوں کی جانب سے آوازیں کسنے جیسے واقعات خواتین کے لیے باہر ورزش کرنے کو کم آرام دہ بنا سکتے ہیں۔

مہم کے دوران بعض گروپس نے رات کے وقت دوڑتے ہوئے ہیڈ ٹارچز، چمکنے والی اسٹکس اور زیادہ نمایاں دکھائی دینے والے لباس استعمال کرنے کا منصوبہ بھی بنایا، تاکہ اندھیرے میں دوڑنے والوں کی موجودگی واضح ہوسکے۔

رننگ گروپس خواتین کے لیے کس طرح مددگار ہوسکتے ہیں؟

ماہرین اور رننگ گروپس سے وابستہ افراد کے مطابق اجتماعی طور پر ورزش کرنے سے خواتین کو تحفظ کا احساس بڑھانے کے ساتھ ساتھ سماجی روابط اور باہمی تعاون کے مواقع بھی مل سکتے ہیں۔

سارہ نائٹ نے خواتین کو رننگ کلبوں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ گروپ کے ساتھ دوڑنے سے ساتھ ملتا ہے، دوستیاں قائم ہوتی ہیں اور ورزش جاری رکھنا آسان ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق سردیوں میں بھی جسمانی سرگرمیاں جاری رکھنا ذہنی صحت اور مجموعی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ڈیمینشیا سے بچاؤ میں مددگار ورزش سامنے آگئی، تحقیق نے اہم راز بتادیا

دِس وومن رنز کی پروگرام مینیجر لورا بروکس کے مطابق جب خواتین سڑکوں اور پارکوں جیسی عوامی جگہوں پر اجتماعی طور پر سرگرم ہوتی ہیں تو دوسری خواتین بھی ان جگہوں کو استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی حاصل کرسکتی ہیں۔

خواتین کے تحفظ میں مردوں کا کردار بھی اہم

مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے باہر ورزش کرنے کا ماحول محفوظ بنانے کی ذمہ داری صرف خواتین پر نہیں ڈالی جاسکتی بلکہ اس میں پوری کمیونٹی کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

کیٹ پیئرز کے مطابق تحقیق میں تقریباً 60 فیصد مردوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ خواتین کو باہر ورزش کرتے ہوئے زیادہ محفوظ محسوس کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مہم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خواتین کو ورزش کے لیے اپنے اوقات اور مقامات محدود کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے بلکہ عوامی مقامات ایسے ہوں جہاں وہ تحفظ کے خدشات کے بغیر جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔

مزید پڑھیں: صرف 3 منٹ کی تیز رفتار ورزش جسم میں کس قدر تبدیلیاں پیدا کرتی ہے؟

منتظمین کے مطابق اجتماعی سرگرمیوں، عوامی آگاہی اور کمیونٹی کی معاونت کے ذریعے خواتین کو درپیش مسائل اجاگر کیے جاسکتے ہیں تاکہ ورزش ہر فرد کے لیے زیادہ قابل رسائی اور محفوظ بن سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp