مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

جمعرات 5 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کا قبائلی ضلع مہمند جس کی آبادی ساڑھے 5 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے تعلیمی سہولیات کی کمی کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مہمند میں اہم رابطہ سڑک خستہ حالی کا شکار، ہزاروں مکین مشکلات سے دوچار

ایک اندازے کے مطابق ضلع میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ دور اقتدار اور منتخب نمائندوں کے متعدد وعدوں کے باوجود یہاں اب تک کوئی یونیورسٹی قائم نہیں ہوسکی۔

مہمند کے شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی طویل صوبائی حکومت کے دوران اچھی طرز حکمرانی اور ترقیاتی منصوبوں کو وہ ترجیح نہیں دی گئی جس کی علاقے کو ضرورت تھی۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی 13 سالہ دور حکومت میں گورنمنٹ ڈگری کالج لکڑو مہمند کیوں نہ بنا سکی؟

مہمند کے شہری تعلیمی پسماندگی اور ترقیاتی منصوبوں کی عدم موجودگی پر کیا کہتے ہیں؟ دیکھیے جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں ترقی پسند سیاست کا نیا دور شروع ہوگیا، میئر نیویارک کا دعویٰ

شکست کی ساری ذمہ داری مجھ پر کیوں؟ پاکستان کے فٹ کھلاڑی بھی بھارت کے خلاف 120 رنز نہ کرسکے، اعظم خان

ناسا کی دوربین کا غیر متوقع اختتام، خلائی ملبہ زمین پر گرنے کا خدشہ

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

پی ٹی آئی سوشل میڈیا کا ایک گروپ پاکستان مخالف ایجنڈے اور علیحدگی پسندوں کے لیے کام کرتا ہے، فواد چوہدری

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا