پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سینیئر رہنما اسد قیصر کی سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سے ایک شادی کی تقریب کے دوران ملاقات کی تصاویر سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ اس ملاقات پر پی ٹی آئی کے اندر سے بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ زخمی، آئی ایس پی آر کی تصدیق
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عاطف خان کی بھتیجی کی شادی کے سلسلے میں اسلام آباد کے ایک بڑے ہوٹل میں تقریب منعقد ہوئی جس میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی متعدد سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان، نیئر بخاری پرویز خٹک، فواد چوہدری، اسد عمر اور عمران اسماعیل سمیت مختلف سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی جہاں پی ٹی آئی رہنماؤں اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر علی خان سے ان کی ملاقات ہوئی جبکہ اس مختصر ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہو گئیں اور ان پر مختلف تبصرے شروع ہونے لگے۔
بیرسٹر گوہر نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شادی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے تقریب میں شرکت کو خوشگوار تجربہ قرار دیا۔
مزید پڑھیے: جنرل باجوہ ایکسٹینشن نہیں چاہتے تھے، ان کی خواہش تھی ساحر شمشاد مرزا آرمی چیف بنیں، ملک احمد خان
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے پرانے دوست فضلی حنان خان کی بیٹی کی شادی میں شریک ہوئے جہاں پرانی یونیورسٹی کی یادیں بھی تازہ ہوئیں۔ انہوں نے نوبیاہتا جوڑے اور ان کے خاندانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کی خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ تاہم انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جنرل (ر) باجوہ کے ساتھ ملاقات کی تصویر شیئر نہیں کی۔
اس ملاقات کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے بیرسٹر گوہر اور جنرل ر قمر جاوید باجوہ کی ملاقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جنرل باجوہ کو شادی میں بلانے پر افسوس نہیں بلکہ اس تضاد پر اعتراض ہے جو اس دعوت سے سامنے آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جس شخصیت کو عوام کے سامنے حکومت گرانے اور عوامی مینڈیٹ پامال کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا رہا اسی کو ذاتی خوشیوں میں عزت و احترام کے ساتھ شریک کرنے سے اپنے ہی سیاسی بیانیے کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ اگر ذاتی تعلقات اتنے ہی عزیز تھے تو کارکنوں کو دشمنیاں کیوں سونپی گئیں؟ کارکنوں نے قیادت کے الفاظ پر اعتبار کرتے ہوئے لوگوں سے مخالفت مول لی لیکن قیادت نے اپنے تعلقات بھی برقرار رکھے اور کارکنوں کو تنہا بھی چھوڑ دیا۔
پی ٹی آئی رہنما نثار جٹ نےکہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: گورنر راج سے ایک روز قبل وزیراعلیٰ ہاؤس میں کیا ہوا تھا؟ بیرسٹر گوہر نے اندرونی کہانی سنا دی
انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے فیصل آباد کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر سیاسی دوست احباب بھی شریک ہوئے تھے۔
پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت بہت بڑھ چکا ہے اور سیاست دانوں کے درمیان نفرت کی فضا کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رواداری کو برقرار رکھنا چاہیے اور ایک دوسرے سے ملنے جلنے کو ذاتی مفادات کے بجائے عوامی خدمت اور قومی مفاد سے جوڑنا چاہیے۔ پارلیمنٹ کو فعال بنانا اور پارلیمانی فورم پر رہتے ہوئے عوام کے مسائل حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سینیئر تجزیہ کار اجمل جامی نے بیرسٹر گوہر اور جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کو سیاسی راستہ نکالنے کی ایک ممکنہ کوشش قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کی بڑی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے مختلف راستے تلاش کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر احتجاج، جلسوں اور دھرنوں سے کوئی راستہ نہیں نکلتا تو مذاکرات کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر پارٹی کے اندر اور بعض یوٹیوبرز کی تنقید کے باوجود اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے، بیرسٹر گوہر کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم
انہوں نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس ملاقات سے کوئی سیاسی نتیجہ نکلے گا یا نہیں تاہم اسے سیاسی رابطے اور مفاہمت کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔










