محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے پولیس کی تنخواہوں اور دیگر الاؤنسز میں اضافے کی تجویز کو بجٹ سے باہر قرار دیتے ہوئے اس میں ردوبدل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محکمہ خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ محکمے کو پولیس کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کا ڈرافٹ موصول ہوا ہے، جس پر اس وقت محکمہ خزانہ میں مشاورت ہورہی ہے۔ محکمہ خزانہ کے حکام نے ڈرافٹ پر اعتراضات لگا کر واپس کرنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرافٹ نہ واپس کیا گیا ہے اور نہ ہی اس پر اعتراضات لگائے گئے ہیں۔
’ہم نے نہ تو کیس واپس کیا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی اعتراض اٹھایا ہے۔ ہم صرف کچھ ردوبدل کررہے ہیں۔‘
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: پولیس نے دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے 40 ارب روپے مانگ لیے، یہ رقم کہاں خرچ ہوگی؟
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد گورنر خیبر پختونخوا نے دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والی صوبائی پولیس فورس کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اضافے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد گورنر ہاؤس میں پولیس حکام کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں پولیس کی تنخواہوں میں اضافے اور سیکیورٹی چیلنج الاؤنس کا ڈرافٹ تیار کرکے حتمی منظوری کے لیے محکمہ خزانہ کو ارسال کیا گیا تھا۔
محکمہ خزانہ نے پولیس کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے ڈرافٹ کی موصولی کی تصدیق کی ہے۔
محکمہ خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبے کو اس وقت مالی مشکلات کا سامنا ہے اور جو تجاویز دی گئی ہیں، وہ بہت زیادہ ہیں۔
’اضافے کی جو تجاویز دی گئی ہیں، وہ موجودہ سطح پر بہت زیادہ ہیں اور انہیں برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ محکمہ خزانہ اس میں ردوبدل کررہا ہے اور جتنا ممکن ہو سکا، اس کے مطابق تجاویز دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ خزانہ کی جانب سے ڈرافٹ فائنل کرنے کے بعد اس معاملے پر پولیس حکام کے ساتھ میٹنگ ہوگی، جس کے بعد اسے گورنر کو ارسال کیا جائے گا۔
’خزانے پر 5 ارب، 20 کروڑ 90 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، جو بجٹ سے باہر ہے۔‘
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ہدایت پر پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ہے، جو اس وقت محکمہ خزانہ کے پاس ہے۔ اس ڈرافٹ میں پولیس کی بنیادی تنخواہ میں اضافے کے ساتھ سیکیورٹی رسک الاؤنس دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ڈرافٹ میں پولیس کو اضلاع کے حساب سے مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں سب سے زیادہ ہائی سیکیورٹی رسک والے اضلاع، جن میں ڈی آئی خان، بنوں اور کوہاٹ ریجن سمیت سابقہ قبائلی اضلاع شامل ہیں، وہاں تعینات پولیس فورس کے لیے بنیادی تنخواہ کا 120 فیصد سیکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
پشاور، ملاکنڈ اور دیگر ملحقہ اضلاع کی پولیس کے لیے بنیادی تنخواہ کا 100 فیصد، جبکہ ہزارہ ریجن کے پولیس اہلکاروں کے لیے بنیادی تنخواہ کا 75 فیصد سیکیورٹی رسک الاؤنس تجویز کیا گیا ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کے سیکیورٹی چیلنج الاؤنس سے ماہانہ 5 ارب 15 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زیادہ کے اضافی اخراجات ہوں گے، جس سے صوبے پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق صوبے کے پاس اخراجاتِ جاریہ پر اضافی بوجھ برداشت کرنے کے لیے فنڈز موجود نہیں ہیں اور اس سے مستقبل میں خزانے پر بھی بوجھ پڑے گا۔
خیبر پختونخوا پولیس حکام کے مطابق پولیس کئی دہائیوں سے دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہی ہے، جبکہ اس کی تنخواہیں اور مراعات دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں۔
ڈرافٹ تیار کرنے والے پینل میں شامل ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ صوبائی فورس کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ایک دیرینہ مطالبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اضافے کا مطالبہ سابق آئی جی مرحوم ناصر درانی کے دور سے چلا آ رہا ہے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ سہیل آفریدی کے ساتھ بھی اس معاملے پر میٹنگ ہوئی تھی، لیکن عملی طور پر پیشرفت گورنر فیصل کریم کنڈی کے دور میں ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تنخواہوں کے معاملے پر محکمہ خزانہ کے ساتھ بھی کئی میٹنگز ہوئیں۔ انہوں نے محکمہ خزانہ پر تاخیری حربے اختیار کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ گورنر کی منظوری کے بعد بھی محکمہ خزانہ سمری جاری کرنے کو تیار نہیں۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟
انہوں نے بتایا کہ ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، جس سے پولیس میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ان کے مطابق پولیس کو سمری کا انتظار ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک محکمہ خزانہ کی جانب سے پولیس کو کچھ نہیں بتایا گیا، تاہم اس بار پولیس حکام پُرامید ہیں کہ تنخواہوں میں اضافے کا دیرینہ مطالبہ ضرور پورا ہوگا۔










