نیتن یاہو کی چھٹی؟ اپوزیشن رہنما آئزن کوٹ کو 67 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے، جہاں اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جگہ حکومت بنانے کے لیے ارکان پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ حمایت حاصل کرلی ہے۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو اس شخصیت کے نام کا اعلان کریں گے جسے نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

اسرائیلی صدر نے 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد جمعرات کو سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کا دوسرا دور مکمل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے انتخابات: نیتن یاہو کے لیے اقتدار کا امتحان، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

انتخابات میں نہ تو طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے وزیراعظم نیتن یاہو اور نہ ہی سابق فوجی سربراہ اور اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ واضح پارلیمانی اکثریت حاصل کرسکے۔

صدر اسحاق ہرزوگ کے مطابق مشاورت کے دوران 67 ارکان پارلیمنٹ نے گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا موقع دینے کی سفارش کی، جبکہ 46 ارکان نے نیتن یاہو کی حمایت کی اور سات ارکان نے کسی بھی امیدوار کی حمایت سے گریز کیا۔

روایتی طور پر اسرائیلی صدر اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جسے پارلیمنٹ کے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہو، تاہم ہرزوگ نے کہا ہے کہ ان کے لیے صرف سفارشات کی تعداد فیصلہ کن نہیں ہوگی بلکہ وہ یہ بھی دیکھیں گے کہ کون سا رہنما عملی طور پر حکومت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر مشاورت کے نتائج واضح دکھائی دیتے ہیں، تاہم سیاسی جماعتوں اور مختلف بلاکس کے درمیان ایک دوسرے کو مسترد کرنے کے رویے کے باعث حکومت سازی کی حقیقی صورت حال ابھی پوری طرح واضح نہیں۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی انتخابات میں قطر پر مداخلت کے الزامات، دوحہ نے ’گمراہ کن مہم‘ قرار دے دیا

انہوں نے کہا کہ وہ بعض جماعتی رہنماؤں سے براہِ راست ملاقاتیں کرکے جلد فیصلہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی عوام نے تبدیلی کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور سبکدوش ہونے والے وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

جماعت نے تمام شہریوں کے لیے کام کرنے والی قومی ہنگامی حکومت فوری طور پر قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

عرب جماعتوں کے ووٹ فیصلہ کن اہمیت اختیار کرگئے

اسرائیل کے حالیہ انتخابات میں عرب اکثریتی 2 سیاسی اتحادوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

ان نشستوں کے باعث عرب جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہیں۔

دونوں عرب جماعتوں نے جمعرات کو گادی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا، تاہم آئزن کوٹ کے اپوزیشن اتحاد میں شامل دائیں بازو کی جماعت اسرائیل بیتینو نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی جس کا انحصار عرب جماعتوں کی حمایت پر ہو۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کی برتری کام نہ آسکی، حکومت سازی کا معاملہ الجھ گیا

اسرائیل بیتینو کے سربراہ اور سابق وزیر دفاع ایوگڈور لائبرمین نے اس حوالے سے عرب جماعتوں کے حماس کو واضح طور پر دہشتگرد تنظیم قرار نہ دینے کو بنیاد بنایا ہے، تاہم عرب جماعتیں 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حماس کے حملے کی مذمت کر چکی ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپوزیشن کی جانب سے عرب ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ممکنہ اتحاد کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا ہے، انہوں نے بدھ کو جاری ایک ویڈیو بیان میں انتخابات میں غیر ملکی طاقتوں کی جانب سے مبینہ مالی مداخلت کے حوالے سے سنگین شکوک و شبہات ظاہر کیے اور عرب شہریوں کی وفاداری پر بھی سوالات اٹھائے۔

مذہبی طلبہ کی فوجی خدمات سے استثنیٰ کا تنازع

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے معاملے پر مذہبی جماعتوں کا کردار بھی اہم ہوگیا ہے، انتہائی مذہبی یہودیوں کی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم نے صدر ہرزوگ سے ملاقات میں نہ تو نیتن یاہو کی دوبارہ وزارت عظمیٰ کے لیے سفارش کی اور نہ ہی آئزن کوٹ کی حمایت کی۔

صدر کے دفتر کے مطابق جماعت نے کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری دینے کی سفارش نہیں کی۔ اس جماعت نے حالیہ انتخابات میں 7 نشستیں حاصل کی ہیں۔

یونائیٹڈ توراہ جوڈازم اور ایک دوسری مذہبی جماعت شاس طویل عرصے سے مذہبی مدارس کے طلبہ کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کے حق میں ہیں۔

نیتن یاہو نے اس استثنیٰ کو برقرار رکھا، تاہم اسے مستقل قانونی تحفظ دینے سے گریز کیا ہے۔

اس معاملے پر اسرائیلی معاشرے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ، لبنان اور ایران کے ساتھ جنگوں کے باعث اسرائیلی فوج کے ریزرو اہلکاروں کو بار بار فوجی خدمات انجام دینا پڑ رہی ہیں۔

یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کے رکن پارلیمنٹ آئزک پنڈرس نے کہا ہے کہ آئندہ جو بھی حکومت قائم ہوگی، اس کے لیے فوری ترجیح توراہ کے طلبہ کی فوجی خدمات سے متعلق حیثیت کا فیصلہ کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کی 18 نشستیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں

اس کے برعکس گادی آئزن کوٹ فوجی خدمات سے مذہبی طلبہ کو حاصل استثنیٰ ختم کرنے کے حامی ہیں، ان کے بعض اتحادیوں نے بھی انتہائی مذہبی یہودی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاستی وسائل پر بوجھ بن رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت سے گریز کا مقصد ممکنہ طور پر انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ مذہبی جماعت کے ووٹ خودکار طور پر ان کے ساتھ نہیں رہیں گے، تاہم مستقبل میں نیتن یاہو حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تو یہ جماعت اس میں شامل ہوسکتی ہے۔

حکومت سازی کے لیے 28 روز کی مہلت

اسرائیلی پارلیمنٹ کے 120 ارکان پر مشتمل ایوان میں نیتن یاہو کے سیاسی بلاک کو 53 نشستیں حاصل ہیں، جبکہ گادی آئزن کوٹ کے اپوزیشن اتحاد کے پاس 48 نشستیں ہیں۔ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں اس سیاسی کشمکش میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی ہیں۔

اسرائیلی قانون کے مطابق صدر کی جانب سے حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپے جانے کے بعد متعلقہ رہنما کو کابینہ تشکیل دینے کے لیے 28 روز کی مہلت دی جائے گی، جس میں مزید 14 روز کی توسیع بھی ممکن ہے۔ اگر وہ مقررہ مدت میں حکومت بنانے میں ناکام رہا تو صدر کسی دوسرے رکن پارلیمنٹ کو یہ ذمہ داری سونپ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نتن یاہو کا عرب جماعتوں پر دھاندلی کا الزام مسترد، اسرائیلی پولیس نے ثبوت نہ ہونے کی تصدیق کر دی

واضح رہے کہ بنجمن نیتن یاہو گزشتہ تین برس سے جاری جنگوں کے دوران اسرائیل کی قیادت کرتے رہے ہیں، جبکہ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ نے قومی اتحاد کی بحالی اور سیاسی تبدیلی کے وعدے کے ساتھ انتخابی مہم چلائی ہے۔

حالیہ انتخابات کے نتائج نے اسرائیل میں ایک نئے سیاسی مرحلے کا آغاز کردیا ہے، تاہم نئی حکومت کی تشکیل کا حتمی فیصلہ عرب جماعتوں اور مذہبی سیاسی گروپوں کے کردار سے مشروط دکھائی دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یوکرین کے مقبوضہ ساحلی علاقے میں ہزاروں املاک ’بے مالک‘ قرار، روسی اداروں کا قبضہ

سابق اسکول ٹیچر چین کے نئے ارب پتی بن گئے، کمپنی کے حصص میں 787 فیصد اضافہ

امریکی وسط مدتی انتخابات میں دھچکے کے بعد ٹرمپ کی شمالی کوریا سے دوبارہ رابطوں کی کوشش کا امکان

کیا آپ کا بچہ آپ سے دور ہورہا ہے؟ ماہرین نے خطرے کی ابتدائی نشانیاں بتادیں

کیا اب کمپیوٹر پر بھی مفت 4K ویڈیوز ایڈٹ کر سکیں گے؟ انسٹاگرام نے بڑا سرپرائز دے دیا

ویڈیو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد پاکستانی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

2 اضلاع کے لاکھوں افراد کا رابطہ شدید متاثر، ہنجلی دوہٹہ کا ٹوٹا پل تاحال نامکمل، مایوس عوام کی امیدیں نئے صوبوں سے بندھ گئیں

اسکول بن گیا، سہولتیں نہ ملیں، پنوں عاقل کے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟