نیسلے پاکستان نے 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس میں 2 ایوارڈز جیت لیے

جمعہ 6 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیسلے پاکستان نے 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس اور سسٹین ایبلٹی انویسٹمنٹ ایکسپو میں پائیداری کے شعبے میں 2 ایوارڈز اپنے نام کرلیے۔

کمپنی کو سرکلر اکانومی اور وسائل کے مؤثر استعمال، جب کہ بہترین پویلین پریزنٹیشن کے اعزاز سے نوازا گیا۔

یہ اعزازات کمپنی کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے بہتر استعمال، ماحول دوست زرعی طریقوں اور پیکیجنگ کے فضلے کو قابلِ استعمال بنانے کے اقدامات کے اعتراف میں دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: نیسلے کا پاکستان میں 60 ملین ڈالر اضافی سرمایہ کاری کا اعلان

کانفرنس کے دوران نیسلے پاکستان نے ’تبدیلیوں اور غیر یقینی صورت حال کے دور میں پاکستان کے زرعی اور غذائی نظام کی تشکیلِ نو: ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کے لیے مصنوعی ذہانت کا کردار‘ کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی مشترکہ میزبانی بھی کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیسلے پاکستان کے ہیڈ آف ٹیکنیکل فیصل ندیم نے کہا کہ قابلِ کاشت زمین پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور مٹی کی زرخیزی میں کمی کے باعث ماحول دوست اور بحالیِ زمین پر مبنی زرعی طریقوں کو فروغ دینا ناگزیر ہوگیا ہے۔

ان کے مطابق کمپنی کسانوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے طریقوں کو وسعت دے رہی ہے جن سے زمین کی صحت بہتر بنانے، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہو۔

مزید پڑھیں: پاکستان معاشی استحکام سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد

پاکستان میں عالمی ادارہ خوراک کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے کہا کہ موسمیاتی اور معاشی مشکلات میں اضافے کے باعث ضروری ہے کہ خوراک ان افراد تک پہنچتی رہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ان کے مطابق مقامی آبادیوں کے ساتھ تعاون، مصنوعی ذہانت اور مؤثر سپلائی چین کے نظام سے غذائی تحفظ بہتر بنانے اور لوگوں کے لیے آمدن کے زیادہ مستحکم مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیسلے ایس اے گلوبل کی سسٹین ایبلٹی ڈیلیوری منیجر کاتارزینا گژیبوسکا نے بتایا کہ کمپنی نے 2030 تک اپنے اہم زرعی خام مال کا 50 فیصد ایسے کسانوں سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جو بحالیِ زمین پر مبنی زرعی طریقے اختیار کررہے ہوں۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے مدت پوری ہونے سے قبل 47 کھرب روپے سے زائد قرض واپس کردیا، مشیر خزانہ

ان کے بقول کمپنی اس ہدف کا تقریباً نصف حاصل کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان طریقوں کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور کسانوں کے معاشی مفادات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کہ پاکستان کا زرعی اور غذائی نظام موسمیاتی تبدیلیوں اور معاشی مسائل کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور سرکاری و نجی شعبوں کے اشتراک سے اس نظام کو زیادہ مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

نیسلے پاکستان اور افغانستان کے ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز اینڈ سسٹین ایبلٹی شیخ وقار احمد نے کہا کہ مضبوط غذائی نظام کی تشکیل کے لیے محض اہداف مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ انہیں عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: ماڑی پیٹرولیم پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ساتویں بلین ڈالر کمپنی بن گئی

’اس مقصد کے لیے کسانوں کے ساتھ تعاون اور پوری ویلیو چین میں نئی شراکت داریاں قائم کی جارہی ہیں۔‘

لمز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ضیغم شہزاد نے تعلیم، تحقیق اور جدت کو یکجا کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیسلے کے ساتھ شروع کیا گیا سرٹیفکیشن پروگرام زرعی شعبے میں تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے اور زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔

کمپنی کے مطابق اس وقت 125 فارمز پر بحالیِ زمین کے زرعی طریقوں کو فروغ دیا جارہا ہے، جب کہ ان کوششوں میں 135 شمسی توانائی کے نظام اور 25 بائیو گیس پلانٹس معاونت فراہم کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں دودھ اور مویشیوں کے شعبے کی بہتری کے لیے ’سفید انقلاب‘ ماڈل پر غور

’پانی کی بچت کے لیے 299 ایکڑ رقبے پر ڈرِپ آبپاشی اور 722 ایکڑ پر مٹی کی نمی جانچنے والے جدید سینسرز بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔‘

اسی طرح کمپنی کے کلین گلگت بلتستان منصوبے کے تحت اب تک 11 ہزار ٹن سے زائد پلاسٹک اور کاغذی پیکیجنگ کے فضلے کو جمع کرنے اور اس کے انتظام میں مدد فراہم کی گئی ہے۔

نیسلے پاکستان کے مطابق اس کے اقدامات اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں، جن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات، بھوک کا خاتمہ اور ذمہ دارانہ پیداوار و استعمال کے اہداف شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp