اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں اُس سے معافی مانگوں۔ وہ اپنے آپ کو سمجھتی ہی کیا ہے۔ کچھ بھی ہوجائے کم از کم مجھ سے معافی کی خاطر جمع ہی رکھو۔
جہاں میں چاہتی ہوں میرے بیٹے نے وہاں ہاں نہیں کی تو میرا وہ مرا ہوا منہ دیکھے گا، میں اسے اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔ اُسے میری بات ماننی پڑے گی۔ کیا اس دن کے لیے میں نے اسے بڑا کیا تھا۔
اس کو میں نے کتنی مرتبہ سمجھایا کہ اپنے جانوروں کو سنبھالو روز ہمارے کھیتوں میں جگالی کرنے آجاتے ہیں مگر اسے جوں تک نہیں رینگتی اس کا کچھ کرنا پڑے گا۔
یہ اوپر چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے پیچھے بڑی بڑی کہانیا ں چھپی ہیں، جس میں انا، ضد، خودپسندی اور غیرت کا ناسور شامل ہے۔ یہ پورے پاکستان کی کہانیاں ہیں مگر خیبر پختونخوا کے ہر گھر کے اندر ایسی بے شمار کہانیاں ہیں جہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگیاں ہوجاتی ہیں اور پھر یہ ناراضگیاں دشمنیوں میں بدل جاتی ہیں۔ دونوں جانب سے کوئی بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتا اور اس سے معصوم جانوں کا ضیاع ہوجاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے شروع ہونے والی لڑائیاں برسا برس چلتی ہی رہتی ہیں، کچھ تو اتنی پرانی ہوتی ہیں کہ لوگوں کو بھول بھی جاتا ہے کہ آخر یہ دشمنی شروع کس بات پر ہوئی تھی۔ مگر غیرت اور انا کی خاطر ان کا حل نہیں نکلتا۔
باتیں چھوٹی سی ہوتی ہیں جو بڑی ہو جاتی ہیں کیونکہ ہم اس کو کھلاتے پلاتے ہیں اور اتنا بڑا کردیتے ہیں کہ وہ جانور کا روپ دھار لیتی ہیں اور پھر وہی غیرت نامی درندہ خود اندر ہی اندر انسان کو کھاجاتا ہے۔ کیونکہ عزت عزیز ہوتی ہے کسی کے سامنے جھکا نہیں جاتا۔ ہم پختون خود کو بہت زیادہ انا پرست سمجھتے ہیں۔ پتہ نہیں ہمیں یہ کس نے سکھایا ہے کہ پختون غیرتی ہے اور ہم اس بات پر فخر کرکے اپنے آنے والے کل کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ چھوٹی باتوں کو سیریس لے کر انا کی خاطر وہ کر گزرتے ہیں جو کہ نہیں ہونا چاہیئے۔ ہم نوکری کو بھی انا کی خاطر جوتے کی نوک پر رکھ دیتے ہیں۔ ہم اپنے خاندان کو تباہ کردیتے ہیں۔ بچوں کو یتیم بنا دیتے ہیں۔ سارے رشتوں سے جان خلاصی کردیتے ہیں۔ کیونکہ ہم غیرتی جو ٹھہرتے ہیں۔ اور اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو بے غیرتوں میں شما ر ہوں گے ۔
بے عزتی کو برداشت کرنا ہم نے سیکھا ہی نہیں ہے اس کا بدلہ ہم لازمی لیں گے جب بھی موقع ملتا ہے وہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ہم غیرت اور عزت کو بہادری سے تشبیہ دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک چیز نہیں ہے۔ بہادری تو یہ ہے کہ غصے پر قابو پایا جائے، یہ نہیں کہ غصے میں کسی کو قتل کردیا جائے۔ بہادری یہ نہیں کہ خودکشی کرکے خود کو بری الزمہ قرار دیا جائے، بلکہ حالات سے مقابلہ کرنا بہادری کہلاتا ہے۔ ویسے یہ غیرت ہے کیا چیز جس نے سب کو بالخصوص پختونوں کو ترقی سے دور کیا ہوا ہے۔ یہ لفظ درحقیقت یہ ایک ایسا عام یا غلط العام اصطلاح ہے جس کا استعمال بڑی دیدہ دلیری، اشتیاق اور پرتپاک انداز میں اس معاشرے کا عام و خاص کرتا ہے۔
بد قسمتی سے اس اصطلاح میں ایندھن کی مانند آگ لگانے کی صلاحیت موجود ہے جو کسی انسان کی جسمانی و کردار کے قتل سے لے کر پوری کی پوری بستیوں کو خاکستر کرنے کی صلاحیت اپنے اندر سموئے رکھتی ہے۔ اس اصطلاح کی مختلف اشکال انفرادی غیرت، خاندانی غیرت، قبائلی غیرت، دینی و قومی غیرت ہمارے گردو بیش میں رقص بسمل کرتی نظر آتی ہیں۔
مجھے نجانے کیوں یہ غیرت تکبر کے بہت نزدیک والی چیز معلوم ہوتی ہے اور تکبر صرف اللہ کے ساتھ مزہ کرتا ہے باقی کوئی متکبر ہوہی نہیں سکتا۔ کیونکہ تمام ظاہری شان وشوکت، دولت، عزت، اختیارات، خوبیاں، خوبصورتی اللہ کی عطا کی ہوئی ہیں جس میں انسان کو ذرہ بھر بھی ملکہ حاصل نہیں۔ یہ اللہ کی جانب سے دی ہوئی چیزیں ہیں جو پل میں لی بھی جاسکتی ہیں۔ اربوں کھربوں کا مالک زمین پر آسکتا ہے تو تکبر کس بات کا۔ جب انسان میں متکبرانہ سوچ پروان چھڑتی ہے تو انا اور خود پسندی پیدا ہوجاتی ہے۔ جس کے بعد وہ خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے اور یہی اسے غیرت اور انا میں مبتلا کردیتی ہے۔ کیونکہ اسے دوسرا بندہ کم تر نظر آتا ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ بھی غلطی کرسکتا ہے اس سے بھی غلطی سرزد ہوسکتی ہے۔ وہ جب خود کو عقل کل سمجھتا ہے تو پھر لازم ہے کہ وہ انا کا شکار ہوجاتا ہے اور کسی کے سامنے جھکنے کو اپنی بے توقیری سمجھتا ہے۔
اگر ہم دیکھیں تو ہماری زندگی کے ہر موڑ پرانا پرست لوگ سامنے آئیں گے۔ جو کسی نہ کسی طرح ایک زعم میں مبتلا ہیں اور اپنی غیرت اور انا کے ہاتھوں سب کچھ تباہ کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ ہم جب قبرستان جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کتنے غیرتی اپنی غیرت کو ساتھ لے کر دفنا چکے ہیں۔ وہ اگر جھک جاتے تو شاید کچھ اور جی لیتے۔ اور اس کی غیرت کی وجہ سے اس کے بچے یتیموں کی زندگی نہ بسر کرتے، اس کی بیوی بیوگی کی چادر نہ اورڑھتی اور بچے کسی کے محتاج نہ ہوتے۔ آسان بات یہ ہے کہ زندگی میں بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔
زوجین آپس میں، اپنی اولاد کے حوالے سے، نوجوان اپنے بڑوں سے، عزیز و اقارب اور دوست ایک دوسرے کے لیے نرمی برتیں۔ کسی موقع پر ضد، انا، غیرت اور برتری کے احساس سے مغلوب ہو کر دور ہونے کے بجائے اپنی غلطی تسلیم کرلیں اور اس پر شرمندہ ہوں تو رشتے ناتوں کی خوب صورتی بڑھ جائے گی ورنہ ہمارے جیسے کتنے نر اور نڈر پختون اپنے ساتھ اناؤں کو بھی دفن کرچکے ہیں۔ یعنی پختون دنیا چھوڑ دیتے ہیں انا نہیں چھوڑتے کے مصداق ہم بھی کسی غیرت اور انا کے ہاتھوں دفن ہوجائیں گے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














