سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ رواں ماہ کے تیسرے یا چوتھے ہفتے عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) سے2.9ارب ڈالر کا قرضہ ملنے کی حتمی منظوری کی توقع ہے۔
دیوالیہ ہونے والے ملک سری لنکا کے صدر نے منگل کے روز پارلیمنٹ کو بتایا کہ معیشت میں بہتری کے آثار ہیں لیکن ملک کے پاس اب بھی اپنی تمام درآمدات کے لئے مطلوبہ غیر ملکی کرنسی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے آئی ایم ایف سے معاہدہ بہت اہم ہوگیا ہے تاکہ فنڈز دینے والے دیگر ادارے بھی فنڈز جاری کرنا شروع کریں۔
سری لنکا نے گزشتہ اپریل میں اپنے 46بلین ڈالر کے غیر ملکی قرضے کی ادائیگی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہوگیا تھا ، نتیجتاً ملک کو مہینوں خوراک اور پیٹرول کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔
وکرما سنگھے حکومت نے ٹیکسوں میں زبردست اضافہ کیا، پیٹرول اور بجلی پر سبسڈی ختم کر دی اور آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لئے خسارے میں چلنے والے ریاستی ادارے فروخت کرنے کا منصوب بنایا ہے۔
واضح رہے کہ چین اور بھارت سری لنکا کو سب سے زیادہ قرض دینے والے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2020کے آخر تک سری لنکا نے چین کے ایگزم بنک کا 2.83بلین ڈالر کا قرضہ ادا کرنا تھا۔ جبکہ 2022کے آخر تک چینی قرض دہندگان کا 7.4بلین ڈالر ادا کرنا تھا۔
صدر وکرما سنگھے کا کہنا تھا کہ سری لنکا کو 2029تک ہر سال اوسطاً6بلین ڈالر ادا کرنے ہوں گے اور اسے آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک رہنا پڑے گا۔

















