لاہور: حکومت سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کی اہم بیٹھک

اتوار 11 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کی 50 منٹ تک جاری رہنے والی اہم بیٹھک لاہور میں ہوئی۔ ملاقات میں ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات کی لسٹ نوازشریف کو پیش کی، ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے ن لیگ کی حکومت بننے کی صورت میں سندھ کی گورنر شپ مانگ لی، اور  کہا کہ کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں میں ایم کیو ایم کو آن بورڈ رکھا جائے گا۔ نوازشریف نے ایم کیو ایم کی شرائط کا مثبت انداز میں جواب دیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کا وفد ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں رائیونڈ پہنچا، ایم کیوایم وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال بھی شامل ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور ایم کیوایم کی قیادت کے درمیان اہم سیاسی بات چیت ہوئی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف، مریم نواز رانا ثنا اللہ خان، احسن اقبال اور دیگر لیگی راہنما بھی ملاقات میں شریک تھے۔ ملاقات میں حکومت سازی کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن  اور ایم کیو ایم کے درمیان آئندہ مل کر چلنے پر اتفاق ہو گیا ہے، مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ حکومت سازی کے مشاورتی عمل میں شریک رہیں گے۔ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن مشترکہ طورپر دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی کریں گی۔

ایم کیو ایم نے ن لیگ کی قیادت کے سامنے پیپلزپارٹی سے متعلق اپنے خدشات ظاہر کیے تو ن لیگ نے ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنے کی ہامی بھرلی۔ نوازشریف نے شہبازشریف کو ہدایت کی کہ آپ نے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مصالحانہ کردار ادا کرنا ہے۔

قبل ازیں رائیونڈ آمد پر مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف، صدر شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ایم کیو ایم قائدین کا استقبال کیا۔

مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی

50 منٹس تک جاری رہنے والی ملاقات میں ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات کی لسٹ نوازشریف کو پیش کی، ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے ن لیگ کی حکومت بننے کی صورت میں سندھ کی گورنر شپ مانگ لی، اور کراچی میں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں میں ایم کیو ایم کو آن بورڈ رکھا جائے گا۔

مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے درمیان آئندہ مل کر چلنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ دونوں سیاسی پارٹیوں نے مستقبل میں ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے لائحہ عمل پر غوروخوض کیا۔ نوازشریف نے ایم کیو ایم کی شرائط کا مثبت انداز میں جواب دیا ہے۔

میاں نواز شریف کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کا امکان

لاہور میں چوہدری شجاعت حسین کی رہائشگاہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی ہے۔ آج دوپہر میاں نواز شریف کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کا امکان بھی ہے۔ نوازشریف، چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ ظہورالہیٰ روڈ آئیں گے۔ دونوں رہنما وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے تعاون کی درخواست کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انتخابات تک آزاد کشمیر میں رہوں گا، احتجاج ختم کرکے مذاکرات کیے جائیں، بلاول بھٹو

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!