طالبان حکومت پاکستان کی جانب سے حملوں پر اتنا شدید ردعمل کیوں دے رہی ہے؟

منگل 19 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ روز پاکستان نے میر علی شمالی وزیرستان میں دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان کے شہروں پکتیکا اور خوست میں فضائی حملے کیے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق کارروائیاں حافظ گل بہادر گروپ اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کی گئیں۔لیکن اس کے جواب میں افغان عبوری حکومت کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور کابل میں تعینات پاکستانی سفیر کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔

اس سے قبل بھی پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کی گئیں ہیں لیکن اس بار افغان طالبان حکومت نے اس پر سخت ردعمل دیا ہے، اس ردعمل کی وجوہات کیا ہیں اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان اگر یہ مخاصمت برقرار رہتی ہے تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہوں گے؟ اس حوالے سے ہم نے خارجہ پالیسی کے ماہرین سے بات چیت کی ہے۔

اقوام متحدہ قراردادوں اور دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی: ڈاکٹر ماریہ سلطان

ساؤتھ ایشیئن اسٹریٹجک سٹیبلٹی انسٹیٹوٹ کی چیئر پرسن اور ماہر امور خارجہ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان عبوری حکومت دوحہ معاہدے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں 1373 اور 1267 کے نتیجے میں قائم ہوئی جو کہ اقوام متحدہ چارٹر کے چیپٹر 7 کے ماتحت ہیں۔ ان قراردادوں میں کہا گیا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی اور اگر ایسا ہوا تو اقوام متحدہ کے رکن ممالک طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ پاکستان فوج کی سرحدی جھڑپیں ہوتی تھیں اور ان دہشت گردوں کو واپس دھکیل دیا جاتا تھا لیکن اس بار پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں جو اس جواز کو تقویت دیتے ہیں کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اس سے افغان عبوری حکومت کا عالمی تاثر خراب ہوگا اور افغان عبوری حکومت کو اس کے لیے دنیا کے سامنے جوابدہ بھی ہونا پڑے گا۔

تعاون نہ کرنے کی صورت میں افغان حکومت کے لیے مشکلات بڑھیں گی

ایک سوال کے جواب کہ اگر یہ لڑائی طویل ہوتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے، ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ افغانستان ایک لینڈلاک ملک ہے اور وہاں حالات پہلے ہی خراب ہیں، اگر وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے تو ان کے لیے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

علاقائی ملکوں کو مل کر افغان سرزمین سے اٹھنے والے دہشت گردی کے مسئلے کے خلاف کام کرنا چاہیے: ایمبیسڈر مسعود خالد

پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے افغان عبوری حکومت کی جانب سے حقیقتا ایک سخت ردعمل آیا ہے اور یہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ اس طرح کی کاروائیوں میں ملکی خودمختاری کے عوامل میں شامل ہو جاتے ہیں۔ چند روز قبل افغان عبوری حکومت کے اہلکاروں کی بھارتی حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ ان ملاقاتوں میں کیا باتیں ہوئی ہیں۔

دہشت گردی کیخلاف ملکر کام کرنے کی ضرورت

اقوام متحدہ اور دوحہ معاہدے میں تو کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی، لیکن افغان عبوری حکومت کسی بھی معاہدے کو خاطر میں نہیں لاتی وہاں مظالم بھی جاری ہیں اور پھر تحریک طالبان پاکستان سے ٹوٹ کر بننے والے نئے گروپس بھی شامل ہیں۔

اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے کہ علاقائی ملک مل کر افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف کام کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم