میرے خاندان کے 60 افراد دیگر فلسطینیوں کی طرح شہید ہوئے، اسماعیل ھنیہ

جمعرات 11 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے اپنے 3 بیٹوں اور متعدد پوتوں کی شہادت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے ’ میں اپنے 3 بچوں اور اپنے کچھ پوتے پوتیوں کی شہادت کے اعزاز پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔میرے بچے باقی قوم کے ساتھ غزہ کی پٹی میں رہے اور وہاں سے نہیں گئے۔‘

’ہمارے تمام لوگوں اور غزہ کے رہائشیوں کے تمام خاندانوں نے اپنے بچوں کے خون کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور میں ان میں سے ایک ہوں۔ میرے خاندان کے تقریباً 60 افراد تمام فلسطینیوں کی طرح شہید ہوئے، اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔‘

اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے ’ دشمن سمجھتا ہے کہ حماس کے قائدین کے بچوں کو نشانہ بنا کر وہ قوم کی قوت ارادی کو کچل سکتا ہے۔ قابضین کا خیال ہے کہ لیڈروں کے بیٹوں کو نشانہ بنانے سے یہ ہمارے لوگوں کے عزم کو توڑ دے گا۔ ہم قابضین سے کہتے ہیں کہ یہ خون ہمیں اپنے اصولوں اور اپنی سرزمین پر قائم رہنے میں مزید ثابت قدم بنائے گا۔دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو گا، اور قلعے گر نہیں سکیں گے۔ دشمن قتل و غارت گری اور نسل کشی سے جو کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہا، وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں  کر پائے گا۔

تحریک حماس کے رہنما کا کہنا ہے کہ دشمن وہم میں مبتلا ہے اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اپنے بیٹوں کے مرنے سے ہم اپنی پوزیشن بدل لیں گے۔ انہوں نے کہا’ بیت المقدس کی آزادی اور مسجد اقصیٰ کے لیے میرے بچوں نے قربانی دی۔ میرے بیٹوں کا خون غزہ میں ہمارے شہید ہونے والوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے کیونکہ یہ سب میرے بیٹے ہیں۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ بدھ کی شام اسرائیلی فوج نے غزہ کے الشاطی کیمپ میں ایک گاڑی پر متعدد میزائل داغے جس میں ھنیہ کے خاندان کے ایک درجن سے زائد افراد سوار تھے۔ اس بزدلانہ اور وحشت ناک کارروائی میں اسماعیل ھنیہ کے 3 جواں سال بیٹے اور 4 پوتے شہید ہوگئے تھے، دیگر بچوں اور خواتین سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟