اختلافی نوٹ: جسٹس شاہد وحید نے پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کو آئین سے متصادم قرار دیدیا

بدھ 8 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کیس میں لکھے گئے اپنے اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس شاہد وحید نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو آئین سے متصادم قوانین بنانے کا اختیار نہیں اور عدالت کے انتظامی امور پر پارلیمنٹ کو مداخلت کی اجازت دینا اختیارات کی آئینی تقسیم کیخلاف ہے۔

جسٹس شاہد وحید کی جانب سے جاری کردہ اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 191 کا سہارا لینے کی اجازت ملی تو عدالتی معاملات میں بذریعہ آرڈیننس بھی مداخلت ہوسکے گی، عدالتی دائرہ اختیار میں اضافہ صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، سادہ قانون سازی سے عدالت کو کوئی نیا دائر اختیار تقویض نہیں کیا جا سکتا۔

const.p._6_2023_an_07052024 by Asadullah on Scribd

اختلافی نوٹ میں جسٹس شاہد وحید نے لکھا ہے کہ ججز کمیٹی اپنے رولز پریکٹس اینڈ پروسیجر کے مطابق ہی بنا سکے گی، ججز کی 3 رکنی کمیٹی پریکٹس اینڈ پروسیجر میں موجود خامیوں کو رولز بنا کر درست نہیں کر سکتی، اگر ججز کمیٹی کا کوئی رکن دستیاب نہ ہو تو اسکی جگہ کون لے گا، اس ضمن میں قانون خاموش ہے، قانون کے مطابق کوئی دوسرا جج کسی کمیٹی ممبر کی جگہ نہیں لے سکتا۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس میں جسٹس شاہد وحید نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے نظام انصاف ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ کو کسی مداخلت کے بغیر آزادی سے کام کرنے دیا جائے۔

جسٹس شاہد وحید نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ عدالت کے انتظامی امور پر پارلیمنٹ کو مداخلت کی اجازت دینا اختیارات کی آئینی تقسیم کیخلاف ہے، حکومت اگر مخصوص مقدمات میں مرضی کے بینچز بنائے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہوگا۔

جسٹس شاہد وحید نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ اگر کمیٹی کے 2 ارکان چیف جسٹس کو صوبائی رجسٹری بھیجنے کا فیصلہ کریں تو کیا ہوگا، چیف جسٹس سپریم کورٹ کے انتظامی سربراہ ہوتے ہیں انہ  دوسرے صوبے بھیجنے کے نتائج سنگین ہوں گے۔

جسٹس شاہد وحید کا موقف ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی سیکشن 3 کے مطابق 184/3 کے تحت بنیادی حقوق کا کیس 3 رکنی بنچ سن سکتا ہے جبکہ سیکشن 4 کے مطابق بنیادی حقوق کے معاملے کی تشریح 5 رکنی بینچ ہی کر سکتا ہے، جو ایک دوسرے سے متضاد ہے، کیونکہ سیکشن 3 سماعت اور آئینی تشریح کی اجازت دیتا ہے جبکہ سیکشن 4 پابندی لگاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp