دبئی پراپرٹی لیکس: الیکشن کمیشن اثاثے چھپانے والوں کو ڈی سیٹ کرے، امیر جماعت اسلامی

جمعرات 23 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دبئی پراپرٹی لیکس معاملے پر الیکشن کمیشن کو اثاثے چھپانے والے سیاستدانوں کو ڈی سیٹ کردینا چاہیے اور سپریم کورٹ بھی نوٹس لینا چاہیے۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ دبئی پراپرٹی لیکس کو مسئلہ کیوں نہیں سمجھا جارہا، اس معاملے پر 4 دن بات ہوئی اور پھر دبا دیا گیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم پائی پائی کے محتاج ہیں، یہ لوگ ساڑھے 3 ہزار ارب روپے باہر لے کر چلے گئے، ان لوگوں نے یہاں سے پیسے لیکر دبئی میں سرمایہ کاری کرلی۔

انہوں نے کہا کہ ایک وزیر نے کہا کہ انہوں نے یہ قانونی طور پر سرمایہ کاری کی، اگر ایسی بات ہے تو انہوں چاہیے کہ وہ دبئی کے ہی وزیر بن جائیں، پاکستان سے وزارت چھوڑ دیں جہاں آپ لوگوں سے سرمایہ کاری کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ لوگوں سے کہتے ہیں انویسٹمنٹ لے کر آؤ مگر خود یہ باہر سرمایہ لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں پراپرٹی رکھنے والوں کو منی ٹریل دینی چاہیے چاہے وہ سیاستدان ہو، بیوروکریٹ ہو یا فوجی افسر۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص طبقہ پاکستان کی دولت کو باہر لے کر جارہا ہے، وہ اپنے اثاثوں کو ڈیکلیئر بھی نہیں کرتا، اب تک تو الیکشن کمیشن کو ایکشن لینا چاہیے تھا، الیکشن ایکٹ کے تحت فارم میں اثاثوں کی تفصیل دی جاتی ہے، جن لوگوں کے نام دبئی پراپرٹی لیکس میں آئے ان کو 2 دن میں چیک کرکے ڈی سیٹ کیا جاسکتا ہے۔

’ایک آئی پی پی نے ایک میگاواٹ بجلی پیدا کیے بغیر 28 ارب روپے کمائے‘

انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کے مفادات کی خاطر پاکستانی قوم سزا بھگت رہی ہے، بجلی کے بل آپ اور میں اس لیے زیادہ ادا کرتے ہیں کیونکہ اربوں روپے کے معاہدے ہوئے ہیں کہ آپ لیں یا نہ لیں، آپ کو بجلی کی قیمت ادا کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسی آئی پی پی بھی موجود ہے جس نے ایک میگاواٹ بجلی پیدا کیے بغیر 28 ارب روپے کا منافع کمایا، قوم کے پیسوں پر ڈاکہ ڈال کر اس آئی پی پی کو 28 ارب روپے ادا کیے گئے کیونکہ معاہدہ تھا کہ آپ بجلی لیں یا نہ لیں قیمت ادا کرنا ہوگی۔

حافظ نعیم نے کہا کہ ایسے ظالمانہ قسم کے معاہدے کرنے میں حکمران اور ساری جماعتیں شامل ہیں، بجلی اتنی مہنگی ہوگی تو صنعت کا پہیہ کیسے چلے گا، چھوٹی صنعتیں کیسے چلیں گی، کھیتوں میں ٹیوب ویل کیسے چلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب لوگوں نے مایوس ہوکر جمع پونجی لگا کر سولر پینل لگانا شروع کیے تو نیٹ میٹرنگ شروع ہوئی جس کے تحت لوگوں کو پیسے ملنے چاہئیں اور اب سازش ہورہی ہے کہ نیٹ میٹرنگ ختم کردی جائے، حکومت نے لوگوں سے اتنی بڑی سرمایہ کاری کروائی جس پر اب تلوار لٹک رہی ہے، اس کے علاوہ سولر پینل پر مزید ٹیکس لگانے کی بات کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں غریب لوگ کہاں جائے، جو تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ان کے راستے بند کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مایوس ہوکر ملک سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کے توانائی شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری، علی پرویز ملک سے عالمی کمپنیوں کے وفود کی ملاقاتیں

بھارتی طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا، آج بہت مشکل سے بچے ہیں، خوفزدہ اداکارہ شہناز گل کی ویڈیو وائرل

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی 25 سالہ رفاقت، خصوصی جشن منانے کی تیاری

بند صنعتی یونٹس کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے لیے مواقع، وزیر سیاحت عبدالرحمان آرائیں کی محکمے کو ہدایات جاری

موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کے لیے فیول سبسڈی، وزیراعظم کا بڑا حکم

ویڈیو

لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں، حکومت جلد کفایت شعاری مہم کا اعلان کرنے جارہی ہے، زیب جعفر

سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ: اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت، ڈی چوک پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے

کچرا سڑک پر پھینکا تو چالان ہوگا، پنجاب میں آگاہی مہم شروع

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘