ہم ایسے نہیں تھے جیسے اب ہیں۔

منگل 9 جولائی 2024
author image

وسعت اللہ خان

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جب سے غزہ پر تازہ قیامت ٹوٹی ہے لگتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ بے چین جماعتِ اسلامی ہی ہے جو کبھی جمعہ تو کبھی اتوار کو کراچی یا لاہور میں ملین مارچ کے نام پر چند ہزار لوگ اکٹھا کرلیتی ہے۔ یا پھر سول سوسائٹی کی اکا دکا تنظیمیں کسی شہر کے مرکزی چوک یا پریس کلب کے باہر چند جانے پہچانے چہروں اور بینرز کے ساتھ کچھ دیر امریکا اور اسرائیل کو کوس کر اپنا غصہ و بے بسی عارضی طور پر باہر نکال دیتی ہیں۔

سرکار میں شامل اہم جماعتیں وقت ضائع کرنے والی اس طرح کی ریلیوں پر یقین نہیں رکھتیں۔ سرکار بس اتنا کرتی ہے کہ کبھی کبھار ایک پریس ریلیز میں فلسطین کے 2 ریاستی حل کا حوالہ دے کر غزہ میں نسل کشی فوری طور پر بند کروانے کے لیے ’عالمی برادری کچھ کرے‘ کی دہائی دے دیتی ہے (گویا پاکستان عالمی برادری سے کوئی علیحدہ وجود رکھتا ہے)۔

گزشتہ ہفتے تو حد ہی ہوگئی جب وزیرِ اطلاعات عطااللہ تارڑ نے بڑے فخر سے بتایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے چوٹی اجلاس میں فلسطین کا مقدمہ پُرزور طریقے سے پیش کیا۔ حالانکہ اس تنظیم میں شامل تمام ممالک فلسطینی کاز کے پرانے حامی ہیں اور سب کے سب 2 ریاستی حل اور غزہ میں فوری جنگ بندی کے بھی حمایتی ہیں۔ تو پھر ہمارے پیارے وزیرِاعظم نے فلسطین کا مقدمہ ’پُرزور انداز‘ میں پیش کرکے اجلاس میں اپنے سوا کس کو قائل کرنے کی کوشش کی؟

یہ محض پاکستان کا حال نہیں۔ بہت سے ممالک تو برسوں سے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ کچھ نے حال ہی میں تعلقات بنائے ہیں اور باقی پَر تول رہے ہیں۔ اردن میں چونکہ نصف آبادی فلسطینی ہے لہذا وہاں سب سے زیادہ احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ مصر پڑوسی ہونے کے ناطے ایک عرصے سے بچولیے کا کردار ادا کررہا ہے۔ وہ شیر اور شکاری کے ساتھ بیک وقت دوڑنے اور اس ’کارِ خیر‘ کا معاوضہ وصولنے والا سب سے بڑا علاقائی ماہر ہے۔

اس وقت اگر فلسطین کے حق میں کوئی احتجاجی جنگ لڑی جا رہی ہے تو وہ امریکی یونیورسٹی کیمپسز میں اور اسرائیل نواز یورپی ممالک کی سڑکوں پر اپنی ہی اسٹیبشلمنٹ کی منافقانہ پالیسیوں کے خلاف ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا۔ فروری 2003 میں عراق پر حملہ رکوانے کے لیے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کسی مسلم ملک میں نہیں بلکہ لندن، سان فرانسسکو، ٹوکیو اور میلبورن کی سڑکوں پر ہوئے۔ ایک دن تو پوری دنیا میں لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ انسانوں نے ممکنہ فوج کشی کے خلاف انسانی زنجیر بھی بنائی۔

ویتنام کی جنگ بھی امریکی اور برطانوی کیمپسز میں لڑی گئی۔ 1968 کی عالمی طلبا تحریک کے لیے ویتنام نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ مہمیز کا کام دیا۔

ہم ایسے ہمیشہ سے نہیں تھے جیسے اب ہیں۔ وہ نوجوان نسل جس نے انگریز کی غلامی دیکھی اور بھگتی تھی اور آزادی کی تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کے حصہ لیا تھا۔ جو ایجی ٹیشن کی سائنس سے بھی بخوبی واقف تھی اور تیری میری گفتگو سے نتیجہ نکالنے کے بجائے خود پڑھ کر کسی نظریے یا موقف کو پرکھنے کی عادی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد ابتدائی برسوں میں یہی نسل اور اس کے بچے ہر بین الاقوامی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے میں آگے آگے رہے۔

یہی پاکستان تھا جہاں 1956 میں نہرسویز پر قبضے کے لیے برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی سامراجی فوج کشی کے خلاف کراچی سے ڈھاکا تک یومِ سویز کے موقع پر کاروبارِ زندگی ٹھپ ہوگیا۔ یہی پاکستان تھا جہاں طلبا نے کانگو کے حریت پسند رہنما پیٹرس لوممبا کی مغربی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے ہاتھوں قتل کے خلاف ملک گیر یومِ سیاہ منایا۔ یہی ملک تھا جہاں ویتنام کے خلاف امریکی جارحیت کے خلاف تواتر سے احتجاجی مظاہرے ہوتے اور ان کے پردے میں امریکا نواز ایوبی آمریت کے خلاف بھی غصہ نکالا جاتا رہا۔

جب 1969 میں مسجدِ اقصی کے ایک حصے کو آگ لگائی گئی تو اسی پاکستان کی قیادت نے رباط کی ہنگامی سربراہ کانفرنس میں اسلامی کانفرنس کی بنیاد رکھنے کی پُرزور وکالت کی۔ وہ الگ بات کہ آگے چل کر اسلامی کانفرنس بھی نشتسن گفتن برخاستن کلب میں بدل گئی۔

بھلے یہ احتجاجی روح شاید عالمی حالات کا دھارا حسبِ منشا نہ موڑ سکی ہو مگر اس بات کا ثبوت ضرور تھی کہ عام آدمی نہ صرف اردگرد کے حالات سے واقف ہے بلکہ بطور ایک زندہ قوم کے فرد کھل کے اپنے غصے اور دکھ کا اظہار کرسکتا ہے۔ اس احتجاجی روح کو طلبا طاقت اور ٹریڈ یونین تحریک آکسیجن فراہم کرتی تھی۔

طلبا اور مزدور یونینیں تازہ سیاسی قیادت کی نرسریوں کا کام کرتی تھیں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ تحریکیں مستقبل کے باخبر و باشعور سیاسی کارکن تیار کرنے کی فیکٹریاں تھیں۔

جب ضیا دور میں قوم کو ڈی پولیٹیسائز کرنے اور اسے عقل چوس بنانے کے پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر طلبا یونینوں اور ٹریڈ یونین سیاست کو کچل دیا گیا تو نتیجہ یہ نکلا کہ آج سیاسی جماعتوں میں قیادت کا جو معیار اور باشعور سیاسی کارکنوں کا جو قحط ہے اس کے سبب اوپر سے نیچے تک کسی کو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ بنیادی قومی مسائل کو کس ترکیب سے سینگوں سے پکڑ کے پچھاڑنا ہے۔

اس ڈی پولیٹیسائز سہولت کی ماری پولٹیکل کلاس کو نہ تو اندرونی ڈائنامکس کا پوری طرح ادراک ہے اور نہ ہی خطے اور باقی دنیا کے رجحانات کی پوری سمجھ ہے۔ اگر سمجھ ہے تو بس یہ کہ اپنے لیے سودے بازی کیسے کرنی ہے۔

یقین نہ آئے تو اب سے 40 برس پہلے کی اخباری فائلوں کی ورق گردانی کرکے تب کی پولٹیکل کلاس کی گفتگو، تقاریر اور بیانات کا موجودہ قیادت کے معیار سے موازنہ کر لیجیے۔

دیگر قوموں نے پچھلے 70، 75 برس میں خود کو کنوئیں سے باہر نکالنے کی بھرپور کوشش کی۔ ہم نے اس دوران کنوئیں سے باہر رہ کر دنیا کا مشاہدہ کرنے والی باشعور نسلوں کو اور آگے بڑھانے کے بجائے کنوئیں میں دھکیلنے پر توانائی لگا دی۔

پہلے کوئی بچہ اچانک کوئی تنقیدی، ٹیڑھا یا عجیب سا سوال جڑ دیتا تو والدین اس نونہال کی ذہانت پر خوشی سے پھولے نہ سماتے۔ آج کا بچہ اگر ایسی حرکت کرے تو والدین خوفزدہ ہوکر نصیحت کرتے ہیں بیٹا ایسے سوالات گھر سے باہر ہرگز مت کرنا۔

ان حالات میں ہمیں اپنا ہی نہیں پتہ کہ کہاں چلے جارہے ہیں۔ بیداری کی کیفیت میں ہیں کہ نیند میں چل رہے ہیں تو اوروں کے مسائل کی کیا خبر رکھیں؟

حالتِ حال کے سبب حالتِ حال بھی گئی

شوق کا کچھ نہیں گیا شوق کی زندگی گئی

( جون ایلیا )

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسعت اللہ خان معروف پاکستانی صحافی، کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp