جب یہ خبر آئی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ 12 جولائی بروز جمعے کو سنائے گی تو فوری طور پر ماضی میں گزرے جمعے اور ان میں دیے گئے فیصلے یاد آگئے۔
ایک وقت وہ بھی تھا جب سپریم کورٹ نے ملکی تاریخ کے اہم فیصلے جمعے کے روز سنائے اور ان میں سے اکثر پاکستان مسلم لیگ ن اور ان کی قیادت کے خلاف تھے۔
ماضی کے انہی فیصلوں کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نہ صرف وزارتِ عظمیٰ کے عہدے فارغ ہوئے بلکہ تاحیات نااہلی کا بھی انہیں جمعے کے دن ہی سامنا کرنا پڑا۔ لہٰذا اس صورتحال کے پیش نظر یہ اندازے شروع ہوگئے تھے کہ کیا اس بار جمعہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر بھاری ہونے والا ہے، مگر سپریم کورٹ کے فیصلے نے سارے اندازے غلط ثابت کیے اور پی ٹی آئی کو آج بڑی کامیابی نصیب ہوئی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا فیصلہ سنایا اور کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے اور رہے گی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ اور آئین کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان نہیں لیا جا سکتا۔
اس فیصلے کی وجہ سے جہاں پی ٹی آئی کو بڑی کامیابی اور راحت نصیب ہوئی تو دوسری جانب یہ فیصلہ مسلم لیگ ن اور ان کی اتحادی جماعتوں کے لیے مشکل کا سبب بھی بن رہا ہے کیونکہ مخصوص نشستوں کے چلے جانے کے بعد حکمران اتحاد کی سیٹوں میں واضح کمی ہوجائے گی۔ اگرچہ حکومت کو اکثریت تو حاصل رہے گی لیکن ان سیٹوں کے چلے جانے سے اپوزیشن مضبوط ہوگی اور ایوان میں مزید طاقت کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کرسکے گی۔
آئیے جانتے ہیں کہ اس سے قبل کب کب مسلم لیگ کے لیے جمعے کو سنائے جانے والے فیصلے پریشانی کا سبب بنتے رہے ہیں۔
28 جولائی 2017
جمعہ کے روز ویسے تو بہت سے اہم فیصلے سنائے گئے تاہم سب سے اہم فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پاناما کیس کا سنایا تھا، جس میں نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے اور کوئی بھی حکومتی عہدہ رکھنے کے لیے تاحیات نااہل کردیا تھا۔ اس فیصلے نے ملکی سیاست کا رخ ہی بدل دیا تھا جبکہ اس فیصلے کے بعد جمعہ کے روز کوئی بھی اہم فیصلہ آنے سے قبل کہا جاتا تھا کہ مسلم لیگ نون کی خیر نہیں۔
06 جولائی 2018
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد، ان کی بیٹی مریم نواز جو موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو بھی جمعہ کے روز ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سزا سنائی۔ نواز شریف کو 10 سال قید 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ، مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جبکہ کپیٹن صفدر کو 1 سال کی سزا سنائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزرائے اعظم اور بڑے عہدے داروں کو سزائیں سنانے والے جج محمد بشیر ریٹائرڈ ہوگئے
13 اپریل 2018
جمعہ کے روز 13 اپریل 2018 کوآئین کے آرٹیکل 62 (1) ایف کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری کیا اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا، اور لکھا کہ ’صادق اور امین نہ رہنے والا شخص عوامی عہدہ رکھنے اور پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہیں ہے‘۔














