بھیڑوں کا ریوڑ یا کوئی اڑن طشتری؟

بدھ 11 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانیہ کے مشرقی سسیکس کے علاقے روٹنگین کے ایک کھیت میں سینکڑوں بھیڑوں نے منفرد حلقہ بنا کر سوشل میڈیا صارفین کے دل جیت لیے ہیں۔

کرسٹوفر ہوگ نامی برطانوی شہری کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان منفرد بھیڑوں کی تصویر شیئر کرنے کے بعد صارفین نے ان پر دلچسپ تبصرے کیے ہیں۔ کسی نے انہیں اجنبی جہاز کہا تو کوئی انہیں اڑن طشتری سے تشبیع دے رہا ہے۔

برطانوی آن لائن اخبار دی میل کے مطابق کرسٹوفر ہوگ اپنی موٹرسائیکل پر باہر جا رہا جب اس کی نظر کھیت میں ایک عجیب منظر پر پڑی اور اس غیر معمولی واقعے کی تصاویر فیس بک پر شیئر کردیں

تصویریں شیئر کرنے کے بعد فیس بک پر درجنوں سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ یہ ‘اجنبی جہاز’ کی طرح لگتا ہے۔

کرسٹوفر کا کہنا ہے کہ ‘میں اپنے روزمرہ کے چکر پر تھا اور پہاڑی کے اوپر آیا اور بھیڑوں کے اس شاندار دائرے کو دیکھا، جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ جو بھی تھا، بہت شاندار تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ منظر اجنبی جہاز کی طرح طشتری کی شکل کا تھا۔ یہ خوبصورت تھا اور تھوڑا سا عجیب تھا۔ میں اپنی سائیکل لے کر قریب گیا اور پھر احساس ہوا کہ یہ بھیڑوں کا حلقہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھیڑیں اکثر عجیب و غریب’ حرکت کرتی ہیں اور عام طور پر شور مچاتی ہیں، لیکن اس دن وہ بہت پرسکون تھیں۔ یہ منظر اتنا پرسکون تھا کہ جیسے وہ ٹرانس مستی میں تھیں۔

انہوں نے اس تصویر کو فیس بک پر بھی شیئر کردی جہاں دوسرے صارفین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس تصویر آخر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی پیش کردہ اسلحہ کنٹرول کی 3 قراردادیں اقوام متحدہ میں منظور، بھارت اور اسرائیل کی مخالفت

کانگریس میں نیو جرسی سے پہلے مسلمان رکن منتخب، ڈاکٹر آدم حموی نے تاریخ رقم کر دی

امیگریشن فراڈ تحقیقات کے باوجود الہان عمر پانچویں بار امریکی کانگریس کی رکن منتخب

غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی بے دخلی: پنجاب میں کریک ڈاؤن تیز، اب تک 28 لاکھ سے زائد شہری واپس روانہ

چیٹ بوٹ کا مشورہ جان لیوا بن سکتا ہے، اے آئی ہارڈویئر ہیک کرنے کا انکشاف

ویڈیو

کیا پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت کر سکتی ہے، پشاور کے صحافی کیا کہتے ہیں؟

پاک افغان مذاکرات کی کامیابی طالبان کے دہشتگردوں کے خلاف عملی اقدامات پر منحصر ہے، سابق سفیر ابرار حسین شاہ

ضلع ٹنڈو محمد خان میں بیڈ گورننس کی انتہا

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا