ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بیان کے بعد انصار عباسی نے یوٹیوب چینل کو ڈی مونیٹائز کردیا

منگل 15 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر صحافی وتجزیہ کار انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے یو ٹیوب کی کمائی کو حرام کہنے کے بعد اپنا چینل ڈی مونیٹائز کر دیا ہے کیونکہ وہ یو ٹیوب سے حاصل ہونے والی آمدن کو حلال نہیں سمجھتے۔

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں اور ان سے متعلق بہت سی خبریں آ رہی ہیں انہوں نے یو ٹیوب کی کمائی سے متعلق بھی ایک بیان دیا ہے کہ یو ٹیوب سے حاصل کی جانے والی آمدنی حرام ہے جب ان کو یہ پتا چلا تو انہوں نے مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمان، مفتی عبد الرشید اور مفتی کاکا خیل کو رہنمائی کے لیے مختلف سوالات بھیجے اور کچھ انٹرنیٹ سے ریسرچ بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے پر تنقید، ڈاکٹر ذاکر نائیک نے پاکستانیوں سے معافی مانگ لی

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر 2 قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں ایک جو ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ  آپ کا اشتہارات پر کنٹرول نہیں ہے اور جس قسم کے اشتہارات یوٹیوب پر آتے ہیں اسلامی نقطہ نظر سے وہ حرام ہیں آپ وہ نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی اس کا منافع لے سکتے اور اگر آپ یو ٹیوب سے منافع لیتے ہیں تو یہ حلال کمائی نہیں ہو گی۔

 اپنے وی لاگ میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فتوے بھی دیے گئے کہ اگر آپ مختلف شرائط کو پورا کرتے ہیں تو منافع لے سکتے ہیں لیکن اس کے لیے دیکھنا ہو گا کہ کس قسم کے اشتہارات یو ٹیوب پر چل رہے ہیں اور یوں منافع لینے کی گنجائش نکالی گئی لیکن یہ معاملہ ابھی تک مشکوک ہے۔

انصار عباسی کا کہنا تھا کہ یو ٹیوب کی کمائی حلال ہے یا حرام اس کا فیصلہ تو علما کریں گے لیکن انہیں یہ کام مشکوک لگا ہے اس لیے کافی سوچ بچار کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا وہ اپنے یو ٹیوب کو مونیٹائز نہیں کریں گے اس صورت میں یو ٹیوب پر اشتہارات نہیں آئیں گے اور ان کو پیسے نہیں ملیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ایلون مسک یو ٹیوب کو ٹکر دینے کے لیے نئی ایپ لانچ کرنے جا رہے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کی رہنمائی کی ہے اور علما سے بات کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے، اب ان کے جتنے وی لاگ ہوں گے اس پر کوئی مونیٹائزیشن نہیں ہو گی اور یو ٹیوب کا ان کے چینل پر کوئی اختیار نہیں ہو گا۔

واضح رہے کہ اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ویڈیوز کی معروف ویب سائٹ یو ٹیوب سے کمائی کو حرام قرار دیا تھا۔ کراچی میں عوامی اجتماع کے دوران ایک شخص کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوٹیوب میں اگرچہ آپ الکوحل کے اشتہارات کو روکتے ہیں لیکن آپ خواتین کے ساتھ کپڑے ظاہر کرنے کے اشتہارات کو نہیں روک سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لاکھوں پیروکار ہیں اور کافی کمائی کے امکانات کے باوجود بہت سے چینلز جو اس کی ویڈیوز کو دوبارہ شیئر کرتے ہیں اکثر ان کے تھمبنیلز میں خواتین کی تصاویر شامل کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے اصل مواد سے زیادہ دیکھے جانے کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گر گئی، 10 سالہ بچہ جاں بحق، 4 مزدور زخمی

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی، اسرائیلی پارلیمان سے متنازع بل  کی ابتدائی منظوری

سام سنگ کا نیا فون لانچ کے لیے تیار،کیا یہ اب تک کا سب سے جدید فون ثابت ہوگا؟

واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز