تمام موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کیمروں کے لیے ایک ہی چارجر، قانون کا اطلاق ہوگیا

پیر 30 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپی یونین نے یورپی ممالک میں تمام موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کیمروں کے لیے ایک ہی چارجنگ پورٹ کا استعمال لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی کی تھی جس کا اطلاق ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چارجنگ کے جَھنجَھٹ سے چھٹکارا، 50 برس تک چلنے والی نیوکلیئر بیٹری تیار

یورپی یونین کے تمام 27 ممالک میں اب تمام نئے اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس، ڈیجیٹل کیمروں، ہیڈفونز، اسپیکر اور کی بورڈز کی ایسی چارجنگ پورٹ ہوگی کہ ایک ہی چارجز سے مذکورہ تمام چیزیں چارج ہوسکیں گی۔

یورپی یونین کے قانون کے تحت تمام کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تمام نئی ڈیوائسز میں یو ایس بی سی پورٹ کا استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں: دماغ نما چپ تیار، فون بیٹریز کی چارجنگ طویل عرصہ رہنے کے امکانات روشن

یاد رہے کہ یورپین یونین نے مذکورہ قانون 2022 میں منظور کیا تھا، جس پر عملدرآمد کے لیے تمام کمپنیوں کو 2 سال کی مہلت دی گئی تھی جو اب ختم ہوگئی ہے۔

دوسری جانب ایپل نے اس قانون پر عملدرآمد کے لیے آئی فون 15 سیریز سے یو ایس بی سی پورٹ کو متعارف کرایا تھا، جبکہ زیادہ تر اینڈرائیڈ فونز میں پہلے ہی یوایس بی سی پورٹ استعمال کی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کی منظوری دیدی

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

’پیف‘ اسکولوں کے نتائج سرکاری اداروں سے بہتر ہیں، وزیر تعلیم پنجاب کا اساتذہ کے لیے بڑا اعلان

یورپی یونین کا میٹا کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے واٹس ایپ کھولنے کا حکم

آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا، امریکا ایران کو لازماً جواب دے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

کالعدم ایکشن کمیٹی بیرونی ایجنڈے پر، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، کال بھی لیک ہوگئی

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟