بلوچستان کے خشک میو ہ جات اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں کے ڈرائی فروٹ کی اعلیٰ کوالٹی ان کو دیگر علاقوں کے ڈرائی فروٹ سے منفرد بناتی ہے۔ بلوچستان میں ایک ایسا جنگلی خشک میوہ بھی بڑے چاؤ سے کھایا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں شنے کہا جاتا ہے۔
شنے یوں تو افغانستان کے مختلف پہاڑی جنگلات میں جھاڑیوں پر پائے جاتے ہیں، لیکن بلوچستان کے ضلع یوگ اور لورالائی کے پہاڑی سلسلے بھی اس سے بھرے پڑے ہیں۔ موتی کے دانوں جیسے یہ مزیدار شنے ان دنوں بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہر خاص عام شخص کی جیب میں ہیں۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے شنے کے کاروبار سے منسلک شخص نے بتایا کہ شنے سخت سردی میں استعمال کیا جانے والا ڈرائی فروٹ ہے، جس کی مانگ بلوچستان بھر میں ہے۔ جتنا یہ ڈرائی فروٹ منفرد ہے اسی طرح اسے کھانے کا انداز بھی الگ ہے ۔پہلے شنے کا سبز حصہ کھایا جاتا ہے ۔بعد اس سے نکلنے والی گٹھلی توڑ کر اس کے اندر کا مغز کھایا جاتا ہے جو انتہائی گرم اور طاقتور چیز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شنے کی بڑی کھیپ افغانستان سے پاکستان لائی جاتی ہے، لیکن پہاڑی سلسلوں پر بھی یہ اُگتے ہیں، جسے لوگ بڑے چاؤ سے کھاتے ہیں۔ بعض لوگ کوٹ کر ان کا شوربہ بھی بناتے ہیں۔ جبکہ ویسے بھی کھایا جا سکتا۔ بات کی جائے اگر ان کی قیمتوں کی تو 5 سو سے لے کر 5 ہزار روپے تک کلوں تک میں دستیاب ہے۔











