لاس اینجلس آتشزدگی کے پیچھے قدرتی عوامل یا انسانی ہاتھ؟

بدھ 22 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے شہر لاس اینجلس میں مختلف مقامات پر لگی آگ کو بجھانے کی کوششیں جاری ہیں تاہم اب اس بات کا جائزہ یہ آگ قدرتی طور پر نہیں لگی بلکہ اس میں انسانی ہاتھ کارفرما ہے۔ اس حوالے سے پولیس نے کچھ گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: امریکی فائربریگیڈ حکام لاس اینجلس آگ پر بے بسی کی تصویر بن گئے

امریکی میڈیا کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آتش زنی کے الزام میں کم از کم 8 افراد کو گرفتار کیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں درختوں، جھاڑیوں، پتوں اور کچرے کو آگ لگائی۔

گرفتار افراد نے آگ کیوں لگائی، عجیب وجوہات؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق 14 جنوری کی شام ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا جس نے مبینہ طور پر کچرے کے ڈھیروں کو آگ لگائی تھی۔

لاس اینجلس پولیس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے مطابق خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ آگ لگانے اور تباہی پھیلانے سے لطف اندوز ہوتی ہے۔

مزید پڑھیے: لاس اینجلس آتشزدگی: فائر فائٹرز کی طلب اور معاوضوں میں ہوشربا اضافہ

ایک اور شخص کو درختوں کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جس نے پولیس کو اپنی حرکت کی وجہ بتاتے ہوئے بتایا کہ اس کو جلتے ہوئے پتوں کی خوشبو بیحد پسند ہے۔

ایک اور مشتبہ شخص کو شمالی ہالی وڈ میں گرفتار کیا گیا جس پر باربی کیو لائٹر کا استعمال کرتے ہوئے آگ لگانے کا الزام ہے۔

آتشزدگی کے 95 فیصد انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے 95 فیصد واقعات انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں خواہ وہ آتش زنی ہو، گرے ہوئے بجلی کے تار ہوں یا غیر محتاط آتشبازی۔

یہ واقعات بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ سنہ 2020 میں آتش زنی کے نتیجے میں 44 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ جل کر خاک ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: لاس اینجلس کی آگ بھڑکی کیسے؟

گزشتہ سال کیلیفورنیا میں آتش زنی کے الزام میں مجموعی طور پر 109 گرفتاریاں کی گئی تھیں۔

دریں اثنا لاس اینجلس میں مختلف مقامات پر لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس آگ سے 40 ہزار ایکڑ رقبہ جل کر خاک ہوچکا ہے اور اس دوران اب تک 27 افراد کے  مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں