ڈونلڈ ٹرمپ نے میری تصویر پوسٹ کی، چند روز بعد بلڈوزر پہنچ گیا، بے گھر امریکی شخص کا انکشاف

اتوار 17 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک بے گھر امریکی شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے پہلے ان کی تصویر پوسٹ کرکے بے گھر افراد کو پارک سے نکالنے کا اعلان کیا، اس اعلان کے چند دن بعد ہی بلڈوزر پہنچ گیا اور اس کا کیمپ اکھاڑ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: بے گھر افراد کی تعداد میں ہوشربا اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ اتوار کو واشنگٹن ڈی سی میں اپنے موٹرکیڈ کے دوران ایک بے گھر افراد کے کیمپ کو دیکھا۔ یہ منظر انہیں ناگوار گزرا اور انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام دیا کہ بے گھر افراد کو فوراً یہاں سے ہٹنا ہوگا۔ اس کے ساتھ انہوں 4 تصاویر بھی پوسٹ کی جن میں ایک تصویر میں ایک شخص اپنی ٹینٹ کے پاس کرسی پر بیٹھا نظر آرہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شخص 66 سالہ بل تھیوڈی ہیں جو برسوں سے اسی جگہ مقیم تھے۔

ٹرمپ کے اعلان کے صرف 4 دن بعد بل تھیوڈی سمیت کیمپ کے دیگر رہائشیوں کو وہاں سے زبردستی ہٹا دیا گیا، مقامی حکام نے بلڈوزر بھیج کر ٹینٹ اور دیگر سامان ختم کردیا۔ تھیوڈی کا کہنا تھا کہ یہ پاگل پن ہے کہ صدر نے گاڑی سے میری تصویر کھینچی اور پھر اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے منفی انداز میں استعمال کیا۔

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا کہ بے گھر افراد کے کیمپ شہر کے پارکوں سے ختم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خوبصورت پارکس میں کچی آبادیاں بن گئی ہیں اور ہم انہیں ختم کررہے ہیں۔

بی بی سی کی تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ مقام وائٹ ہاؤس سے صرف 10 منٹ کی مسافت پر تھا۔ جب وہاں کا جائزہ لیا گیا تو حکام مقیم افراد کو متنبہ کر رہے تھے کہ انہیں جلد جگہ خالی کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا سے غیرقانونی بھارتی تارکین وطن کی بے دخلی شروع

بل تھیوڈی نے بتایا کہ وہ تعمیراتی شعبے میں کام کرتے تھے لیکن 2018 کے بعد مستقل روزگار نہیں مل رہا۔ اب وہ صرف چند دن مزدوری کر کے گزارا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی جگہ صاف رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں، صدر کو برا لگتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی کی بے عزتی کررہے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ دارالحکومت کی سب سے بڑی بے گھر بستی تھی جہاں 11 افراد رہتے تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال واشنگٹن میں 5 ہزار 138 افراد بے گھر ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہیں۔ ان میں سے تقریباً 800 افراد بالکل بے آسرا ہیں جبکہ باقی کو عارضی رہائش دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا فیس میں اضافہ، غیر ملکیوں کو کن مسائل کا سامنا کرنا ہوگا؟

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کو پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کی پیشکش کی جائے گی اور انہیں علاج یا بحالی کی سہولت بھی دی جائے گی، لیکن جو لوگ انکار کریں گے ان پر جرمانہ یا جیل کی سزا عائد ہوسکتی ہے۔

بل تھیوڈی کا کہنا تھا کہ آپ زبردستی لوگوں کو پناہ گاہوں میں نہیں بھیج سکتے کیونکہ یہ جگہیں اچھی نہیں ہوتیں۔ وہ 3 دن کے لیے ورجینیا کے ایک موٹل میں مقیم رہے جہاں کسی خیر خواہ نے ان کے اخراجات برداشت کیے۔

اسی طرح 65 سالہ جارج مورگن، جو صرف 2 ماہ سے اس کیمپ میں رہ رہے تھے، اپنے کتے سمیت بے دخل کیے گئے۔ وہ بھی ایک موٹل میں عارضی طور پر مقیم ہیں لیکن آنے والے دنوں کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اللہ ہی سہارا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے معروف کوہ پیما نرمل پرجا سمیت 10 کوہ پیما لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری

کیا اے آئی نے خود ہیکنگ شروع کر دی؟ اوپن اے آئی کے انکشاف نے دنیا کو چونکا دیا

پی ایس ایل میں نئی تبدیلیوں کا آغاز، پلیئنگ کنڈیشنز اور ریٹینشن پالیسی پر جلد ورکشاپس کا اعلان

باربی کیو سٹال سے کامن ویلتھ میڈل تک، فاطمہ زہرا کی جدوجہد رنگ لے آئی

گردن پر پرفیوم لگانے سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ

ویڈیو

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

فون گرو فارم خانیوال: جدید زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کا ایک مثالی ماڈل

نورین نیازی ذاتی مفاد کے لیے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘