پرنس رحیم آغاخان کا وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو خط، سیلاب کی تباہی سے نمٹنے کے لیے تعاون کی یقین دہانی

اتوار 24 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پرنس رحیم آغاخان نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو اپنے اداروں کی طرف سے تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی۔

اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی پیشوا اور آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے سربراہ ہز ہائینس پرنس رحیم آغا خان نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان کو خط لکھ کر علاقے میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر گہرے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پرنس رحیم آغاخان کا وزیراعظم شہباز شریف کو خط، پاکستان اور بھارت میں ثالثی کی پیشکش

اپنے خط میں انہوں نے لکھا، ‘میں اپنی کونسل اور آغاخان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کی ایجنسیز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہوں، اور جیسے جیسے آئے روز ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں، میں اس صورتحال کا جائزہ لے رہا ہوں۔’

پرنس رحیم آغاخان کا کہنا تھا، ‘میں بالخصوص گلگت کے قریب رضاکاروں کی ہلاکت کا سُن کر افسردہ ہوا جو اپنے لوگوں کے لیے پانی کی ترسیل کے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کام کررہے تھے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ ان کی روحیں ابدی سکون میں آرام کریں، اور ان کے متاثرہ خاندان اس عظیم نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت حاصل کریں۔’

یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان: راؤشن میں گلیشیئر پھٹنے سے سیلابی صورتحال، وزیر اعلیٰ و پاک فوج متحرک

آغاخان نے وزیراعلیٰ کے اس خط کا بھی ذکر کیا جس میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی میں معاونت کے لیے ان سے اپیل کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا علاقہ ہمیشہ ‘میرے دل کے قریب رہا ہے’، اور میرے ادارے حالیہ نقصانات میں بحالی اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت اور مقامی آبادی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

PRINCE RAHIM AGA KHAN ASSURES ASSISTANCE TO FLOOD AFFECTEES OF GILGIT BALTISTAN 2025
پرنس رحیم آغاخان کے خط کا عکس

پرنس رحیم آغاخان نے امید ظاہر کی کہ بحالی کی مشترکہ کوششیں سیلاب سے ہونے والی تکالیف کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

یاد رہے کہ اس سال ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح گلگت بلتستان کو بھی سیلابی صورتحال کا سامنا رہا۔ تازہ ترین واقعہ غذر کے علاقے راؤشن میں پیش آیا جہاں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات آنے والے تباہ کن سیلاب نے تالی داس نامی گاؤں کو مکمل طور پر ملیامیٹ کرکے رکھ دیا۔

گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے اس سیلاب کے باعث کم از کم 30 گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ علاقے کی اکثر زمینیں اور املاک ملبے کے نیچے دب گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: غذر گلگت بلتستان: سیلاب کے دوران چرواہے کی بروقت اطلاع سے سینکڑوں زندگیاں کیسے بچ گئیں؟

سیلابی ریلے نے دریائے غذر کا بہاؤ بھی روک دیا جس سے تقریباً 7 کلومیٹر طویل جھیل بن گئی اور دریا کے آس پاس موجود مزید 330 گھرانے متاثر ہوئے۔ اس جھیل نے مکانات، زرعی زمینیں اور غذر-شندور روڈ کے کئی حصے ڈبو دیے ہیں جس کے نتیجے میں اپر گوپس، پھندڑ اور یاسین کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے میں حکومت، پاک فوج اور AKDN کی طرف سے بحالی کی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: دیامر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، نظامِ زندگی مفلوج

اس سے قبل جولائی اور اگست کے مہینے میں گلگت بلتستان میں دیامر، چٹورکھنڈ، بلتستان اور ہنزہ کے متعدد مقامات پر بھی سیلاب آئے اور مقامی آبادی اور سیاحوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق اس عرصے میں قدرتی آفات سے جُڑے مختلف حادثات میں 40 سے زائد افراد جان سے گئے۔ جاں بحق افراد میں دنیور گلگت میں آبپاشی کی نہر کی مرمت کرنے کے دوران مٹی کے تودے کے نیچے دبنے والے 8 رضاکار، چٹورکھنڈ میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے ایک ہی گھر کے 5 افراد اور دیامر کے تھک نالہ میں سیلاب کی نذر ہونے والے متعدد سیاح بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

قندھار میں یونائیٹڈ فرنٹ کا حملہ: طالبان محتسب ہلاک، حملے کی ویڈیو بھی جاری

جدید اسمارٹ ٹوائلٹ سیٹ صرف 30 سیکنڈ میں دل کی دھڑکن چیک کرے گا

امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے جامع قانون سازی کی راہ ہموار

روسی فوج کو جولائی میں 42 ہزار 800 جانی نقصان، یوکرین پر ریکارڈ گلائیڈ بموں کی بارش

نائجیریا میں تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ تک جنگل میں قید 308 افراد آزاد

ویڈیو

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

کالم / تجزیہ

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں