بھارت نے دریائے چناب میں مزید پانی چھوڑ دیا، انتظامیہ ہائی الرٹ، متعدد دیہات خالی کرا لیے

بدھ 3 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے زیر انتظام جموں کے علاقے اکھنور سے دوسرا بڑا سیلابی ریلا پاکستان کے دریائے چناب میں داخل ہوگیا ہے۔

ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہونے کی وجہ سے چناب پل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، اور انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ٹینٹ سٹی اور ریلیف کیمپ قائم

حکام کے مطابق بھارت سے آنے والا سیلابی ریلا ہیڈ خانکی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر متعدد دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں۔

سیلابی پانی کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پل ہیڈ خانکی کے قریب پہلا شگاف ڈالنے کی تیاریاں جاری ہیں، جو اس وقت کھولا جائے گا جب پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر جائے۔

انتظامیہ نے 450 دیہات کی خالی کرانے کے لیے مساجد کے ذریعے اعلانات بھی کروائے ہیں۔ بھلوال میں طالب والا پتن کے قریب شدید کٹاؤ کے نتیجے میں کئی ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو گئی ہے۔

اسی دوران دریائے راوی کے پانی نے ملتان کے علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے اور عبدالحکیم کے مقام پر ریلوے ٹریک سے پانی گزرنا شروع ہو گیا ہے۔ ملتان میں اکبر فلڈ بند پر پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دریائے ستلج کے حوالے سے بھارت نے پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ وہاں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن کے مطابق دریائے ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروز پور زیریں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح دریائے توی میں بھی مقبوضہ جموں کے مقام پر سیلاب کی شدت زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے باعث کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں کتنے اضافے کا خدشہ؟

علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں 5 ستمبر تک بارشوں کی پیش گوئی کردی ہے، جس کے باعث سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp