بھارت کے زیر انتظام جموں کے علاقے اکھنور سے دوسرا بڑا سیلابی ریلا پاکستان کے دریائے چناب میں داخل ہوگیا ہے۔
ہیڈ مرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہونے کی وجہ سے چناب پل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، اور انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے ٹینٹ سٹی اور ریلیف کیمپ قائم
حکام کے مطابق بھارت سے آنے والا سیلابی ریلا ہیڈ خانکی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر متعدد دیہات خالی کرا لیے گئے ہیں۔
دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب،، سیلاب سے وزیر آباد، سیالکوٹ اور منڈی بہاوالدین کے قریبی دیہات ایک بار پھر متاثر ہونا شروع pic.twitter.com/eQqj5GcQ0K
— adnan khalid (@adnankhalid444) September 3, 2025
سیلابی پانی کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پل ہیڈ خانکی کے قریب پہلا شگاف ڈالنے کی تیاریاں جاری ہیں، جو اس وقت کھولا جائے گا جب پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر جائے۔
انتظامیہ نے 450 دیہات کی خالی کرانے کے لیے مساجد کے ذریعے اعلانات بھی کروائے ہیں۔ بھلوال میں طالب والا پتن کے قریب شدید کٹاؤ کے نتیجے میں کئی ایکڑ زرعی زمین تباہ ہو گئی ہے۔
اسی دوران دریائے راوی کے پانی نے ملتان کے علاقوں کو بھی متاثر کیا ہے اور عبدالحکیم کے مقام پر ریلوے ٹریک سے پانی گزرنا شروع ہو گیا ہے۔ ملتان میں اکبر فلڈ بند پر پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دریائے ستلج کے حوالے سے بھارت نے پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ وہاں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بھارتی ہائی کمیشن کے مطابق دریائے ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروز پور زیریں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اسی طرح دریائے توی میں بھی مقبوضہ جموں کے مقام پر سیلاب کی شدت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب کے باعث کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں کتنے اضافے کا خدشہ؟
علاوہ ازیں پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں 5 ستمبر تک بارشوں کی پیش گوئی کردی ہے، جس کے باعث سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا امکان ہے۔














