ڈاکٹر نبیہہ کیس میں ٹرننگ پوائنٹ: جس گھر کو وہ اپنا بتارہی تھی، کرائے کا نکلا

جمعرات 4 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور میں دریائے راوی کے کنارے واقع ایک معروف سوسائٹی کی رہائشی ڈاکٹر نبیہہ علی خان کی ویڈیو سے شروع ہونے والی کہانی ایک نیا رخ اختیار کر گئی ہے۔ واضح رہے کہ دریائے راوی میں طغیانی کے باعث پارک ویو سمیت متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پانی داخل ہوگیا، جس سے متعدد گھر زیرِ آب آگئے۔

متاثرین نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کیں، جن میں ڈاکٹر نبیہہ علی خان بھی شامل تھیں۔ ان ویڈیوز سے شروع ہونے والی کہانی نے ایک نیا موڑ اختیار کیا ہے اور یہ انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹر نبیہہ علی خان جس گھر میں پانی داخل ہونے اور اس کی ملکیت کا دعویٰ کر رہی تھیں، وہ ان کا ملکیتی گھر نہیں ہے، بلکہ وہ کرائے پر رہ رہی ہیں۔

ڈاکٹر نبیہہ نے اپنے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پہلے 2 سال تک اسی سوسائٹی میں کرایہ پر رہتی رہی ہیں۔ اسی دوران ان کے بھائی نے سوسائٹی نے زمین خریدی اور اس پر گھر تعمیر کیا جس میں وہ رہائش پذیر ہیں۔

ان کے مطابق  یہ گھر بنانے پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے اور ماضی میں انہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم اب سیلاب کے بعد وہ سوسائٹی میں مزید رہائش اختیار نہیں کرنا چاہتیں۔

پوڈ کاسٹ میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ مالکان متاثرہ مکینوں کو معاوضہ فراہم کریں کیونکہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہاں ہر سہولت میسر ہوگی۔

تاہم حال ہی میں ایک دوسرے انٹرویو میں مکان کے اصل مالک سامنے آئے۔ ان کا نام حنیف گورائیہ ہے اور وہ بنیادی طور پر ایک وکیل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اکتوبر 2024 میں ڈاکٹر نبیہہ کے بھائی سے معاہدہ کرایہ داری کیا تھا اور وہ ڈاکٹر نبیہہ کے بھائی کی شناخت سے ناواقف تھے۔ مالک مکان نے اس موقع پر کرایہ نامی بھی دکھایا۔

مالک مکان کے مطابق ڈاکٹر نبیہہ کرایہ دار ہیں، مالک نہیں۔ اگر انہیں بات کرنا تھی تو سوسائٹی کے مسائل پر کرنی چاہیے تھی، نہ کہ وہ خود کو مالک ظاہر کرتیں۔

مالک مکان کا  یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے گھر میں اندر تک پانی نہیں آیا، ملحقہ خالی پلاٹ میں پانی ضرور آیا جس کی وجہ سے ان کے گھر کی بنیادوں کا نقصان ہوا۔

’ڈاکٹر نبیہہ نے آواز اٹھائی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ اگر اس کے جواب میں سوسائٹی نقصان پورا کر رہی ہے
تو یہ بھی اچھی بات ہے۔‘

اسی دوران ڈاکٹر نبیہہ نے وضاحت دی کہ انہوں نے کبھی مکان کو اپنی ملکیت قرار نہیں دیا۔ یہی کہا تھا کہ مکان ان کے بھائی کے نام پر ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ مکان کی ملکیت نہیں بلکہ سیلاب سے ہونے والا نقصان ہے، جس سے وہ اور دیگر خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی ویڈیو کا مقصد متاثرہ رہائشیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا تھا، نہ کہ ذاتی فائدہ۔ انہوں نے اس الزام کو غلط قرار دیا کہ انہوں نے ویڈیوز بنانے کے لیے کسی سے کوئی روپیہ پیسہ لیا ہے۔

ڈاکٹر نبیہہ نے یہ بھی کہا کہ سیلاب کے دوران ان کا آئی فون 16 پرو میکس بھی گم ہوگیا ہے، جو اب تک نہیں ملا۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا کروڑوں کا نقصان ہوا ہے جس میں جیولری اور نقدی بھی شامل تھی اور گھر کا نیا فرنیچر بھی تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جیولری کی مالیت اور نقدی کتنی تھی، انہوں نے بتانے سے گریز کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گر گئی، 10 سالہ بچہ جاں بحق، 4 مزدور زخمی

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی، اسرائیلی پارلیمان سے متنازع بل  کی ابتدائی منظوری

سام سنگ کا نیا فون لانچ کے لیے تیار،کیا یہ اب تک کا سب سے جدید فون ثابت ہوگا؟

واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز