اسلام آباد: ون وے کی خلاف ورزیوں کے خلاف ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن، 280 مقدمات درج

بدھ 17 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کے احکامات پر ون وے کی خلاف ورزیوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

پولیس ترجمان کے مطابق اب تک 280 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ 820 گاڑیاں اور موٹر سائیکل مختلف تھانوں میں بند کی گئی ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہی ون وے کی خلاف ورزی کرنے والے 31 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بھرپور ایکشن کے نتیجے میں ون وے کی خلاف ورزیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد ٹریفک پولیس کی ہیلمٹ آگاہی اور نفاذ مہم، 34 ہزار سے زائد سائیکل سواروں کے خلاف کارروائی

سی ٹی او کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے کہا کہ ون وے کی خلاف ورزی نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کے لیے بھی خطرہ ہے، لہٰذا شہری مہذب شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے غیرقانونی اقدامات سے گریز کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ون وے کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا پر آگاہی مہم بھی جاری ہے اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے افسران ہر وقت سڑکوں پر موجود رہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟