زہری میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے بعد امن کی بحالی، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا غلط ثابت

اتوار 19 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے پرامن علاقے زہری نے رواں سال جنوری میں اچانک پرتشدد واقعات کا سامنا کیا، جب بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشتگردوں نے بینکوں پر حملے کیے، دکانیں لوٹیں اور مقامی آبادی سے بھتہ وصول کیا۔ عوام کی فوری اپیل پر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات پر مبنی محدود اور ہدفی آپریشن شروع کیا تاکہ علاقے کو دہشتگرد عناصر سے پاک کر کے امن و تحفظ بحال کیا جا سکے۔

ابتدائی طور پر بعض حلقوں نے سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر اور گمراہ کن دعوے پھیلائے، تاہم مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ کارروائی صرف دہشتگردوں کے خلاف کی گئی تھی اور عام شہریوں یا املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والا فتنہ الہند کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز کے مطابق یہ آپریشن مقامی آبادی کی درخواست پر کیا گیا، جس کا مقصد بھتہ خوری، تخریب کاری اور شہریوں کے خلاف تشدد میں ملوث عناصر کا خاتمہ تھا۔ کارروائیاں انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ انجام دی گئیں تاکہ علاقے کے مکینوں، کاروباروں اور تعلیمی سرگرمیوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔

فورسز کا کہنا ہے کہ زہری میں کسی بھی شہری کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کیا گیا، تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی گئیں اور عوامی تحفظ کو ہر مرحلے میں مقدم رکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط اطلاعات اور مبالغہ آمیز پروپیگنڈا کے برعکس اسپتالوں کے ریکارڈ یا کسی میڈیکل شواہد میں کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ماہرین کے مطابق یہ پروپیگنڈا مہم دراصل ایک منظم سازش کا حصہ تھی، جس کا مقصد بداعتمادی اور انتشار پیدا کرنا تھا۔

آج زہری کی سڑکیں کھلی ہیں، بازار آباد ہیں اور بچے خوف کے بغیر اسکول جا رہے ہیں۔ مقامی برادری نے امن کی بحالی میں سیکیورٹی فورسز کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔ اب عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد اور تعاون کے باعث علاقے میں ایک نیا پُرامن اور خوشحال ماحول پروان چڑھ رہا ہے۔

حکومتِ پاکستان بلوچستان ڈیویلپمنٹ پیکیج کے تحت زہری سمیت صوبے میں تعلیم، صحت، سڑکوں اور روزگار کے منصوبوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

نئے اسکولوں، کلینکس اور کاروباری مراکز کی تعمیر سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ امن کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ترقی ہے، ہتھیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، صدر و وزیراعظم کا خراج تحسین

زہری کے نوجوان اب کتابوں اور تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں، اور ان کی توجہ ایک بہتر مستقبل کی تشکیل پر ہے۔ علاقے میں پروپیگنڈے کے ذریعے انتشار پھیلانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ مقامی آبادی اب غلط بیانیوں سے متاثر ہونے کے بجائے ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔

زہری کا سفر غیر یقینی سے امن کی طرف حوصلے اور امید کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں کے عوام نے خوف کے بجائے امید اور ترقی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ زہری کی کامیابی کا پیمانہ لڑائیوں نہیں بلکہ بحال شدہ زندگیوں، محفوظ دلوں اور روشن دنوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فرانس کا عالمی چیمپئن بننے کا خواب چکنا چور، اسپین فائنل میں پہنچ گیا

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں تاریخی اضافہ، وجوہات کیا ہیں؟

پنجاب اسمبلی کی تاریخ میں پہلی جوڈیشل کمیٹی قائم، یہ کیسے کام کرے گی اور اس کے اختیارات کیا ہوں گے؟

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!