‘اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاستی اور مذہبی فرض،’ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کا بل پارلیمنٹ سے منظور

منگل 2 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا جسے ترامیم کے بعد ایوان نے منظور کردیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہمارا ریاستی اور مذہبی فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک گروہ جو اپنے آپ کو اقلیت سمجھتا ہی نہیں ہے وہ ویسے بھی اس بل سے باہر ہے، اس بل کا مقصد پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو تحفظ دینا ہے، ہمارے مذہب نے ہمیں اقلیتوں کو حقوق دینے کا سبق سکھایا۔

یہ بھی پڑھیے: سینیٹ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’اقلیتی کاکس‘ کا قیام

وفاقی وزیر نے کمیشن کو سوموٹو ایکشن کا اختیار دینے پر اٹھائے گئے کامران مرتضیٰ کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بےضرر کمیشن ہے، صرف اقلیتوں کے حقوق پر اس میں بات ہوگی اور سوموٹو لیا جائے گا۔

بعدازاں انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کے اعتراض پر بل کے سیکشن 35 کو ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

بل کی شق وار منظوری میں اس کی حمایت میں 160 اور مخالفت میں 79 ارکان نے ووٹ دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

اسحاق ڈار کی آسٹریلین ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال

ہنگامی صورتحال میں بھی سپریم کورٹ کی کارروائی جاری، ویڈیو لنک کے ذریعے 20 مقدمات نمٹا دیے گئے

’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال

پنجاب میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کا اطلاق تاخیر کا شکار، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟