وفاقی آئینی عدالت نے پیٹرولیم بحران میں نجی کمپنی کو سبسڈی کی ادائیگی کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کردیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل آئینی عدالت کے 2 رکنی بینچ نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ سے دونوں متعلقہ مقدمات کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ایک نجی پٹرولیم کمپنی کو ایک ہفتے کے اندر اربوں روپے کی سبسڈی ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
اسی مقدمے سے جڑے دوسرے فیصلے میں ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو معاملے پر مزید کارروائی کرنے سے بھی روک دیا تھا۔
وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پیٹرولیم کمپنیوں کو قیمتوں کے فرق کی مد میں سبسڈی دینے کا فیصلہ پالیسی سطح پر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: انصاف پر ٹیکس؟ بائیو میٹرک فیس کے خلاف آئینی عدالت میں درخواست دائر
تاہم اس کی تفصیلات اور کلیمز کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
نجی کمپنی گوپیٹرولیم نے پیٹرولیم بحران کے دوران حکومت سے تقریباً 14 ارب روپے کی سبسڈی کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور کلیمز کی تصدیق کے لیے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: ججز ٹرانسفر کیس سے متعلق 5 انٹرا کورٹ اپیلیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے وفاق کی اپیل کو مزید سماعت کے لیے منظور کر لیا۔
جبکہ کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔














