کیا جیل میں سیاسی ملاقاتوں پر پابندی صرف عمران خان پر ہے؟

ہفتہ 6 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان 28 ماہ سے جیل میں قید ہیں اور ان کے خلاف مقدمات کا ٹرائل بھی جیل میں ہی چل رہا ہے۔ جیل میں ملاقات کے لیے ہفتے میں 2 دن یعنی منگل اور جمعرات مقرر ہیں جن میں عمران خان کی فیملی، وکلا اور سیاسی رہنماؤں کی ملاقات کرائی جاتی تھی لیکن اب حکومت نے ان کی ملاقات پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ خان کی عمران خان سے ملاقات پر پابندی عائد، اب اڈیالہ جیل کے باہر تماشا نہیں لگانے دیں گے، حکومت

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 4 نومبر کے بعد سے عمران خان سے کسی کی بھی ملاقات نہیں کروائی جا رہی تھی تاہم 3 روز قبل ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات کروائی گئی لیکن اس کے بعد سے ملاقاتوں پر پابندی پھر لگ چکی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ عظمیٰ خان نے ملاقات کا احوال میڈیا سے شیئر کرکے قانون کی خلاف ورزی کی اس لیے ان کی ملاقات بھی روک دی گئی ہے۔ سہیل آفریدی پر پہلے سے ہی ملاقات کرنے پر پابندی عائد ہے۔

وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا جیل میں سیاسی ملاقاتوں پر پابندی صرف عمران خان تک محدود ہے یا ماضی میں دیگر سیاسی رہنماؤں کو بھی ایسی پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔

سیاسی گفتگو ہوسکتی ہے فساد برپا کرنے والی بات چیت نہیں، ملک ابرار

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک ابرار نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو کی اجازت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بھی نواز شریف سے جیل میں سیاسی گفتگو کرتے تھے لیکن ملکی مفاد کے خلاف بات چیت یا بھارتی ایجنڈے پر گفتگو ہرگز نہیں ہوسکتی۔

مزید پڑھیے: عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر پابندی یا ملاقات سے ذاتی انکار، مسئلہ ہے کیا؟

ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی رہنما صرف سیاست پر بات کریں تو ملاقات ممکن ہے لیکن وہ انتشار اور فساد پر گفتگو کرتے ہیں اس لیے انہیں اجازت نہیں ملتی۔

ارادے کچھ اور ہوں تو ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں، آغا رفیع اللہ

پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری بھی جیل میں سیاسی ملاقاتیں کرتے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ پی ٹی آئی ورکر اور رہنما کمپرومائزڈ ہیں اس لیے ملاقات نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل میں عمران خان کی صحت، ملاقاتوں اور سہولیات سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیں

آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اگر ورکر کا حوصلہ، ہمت اور ارادہ درست ہو تو ملاقات میں رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں لیکن ارادے کچھ اور ہو تو ایسی صورت میں ملاقاتیں نہیں ہو سکتیں۔

نواز شریف سے ملاقاتیں مختصر ہوا کرتی تھیں، ابصار عالم

سینیئر صحافی ابصار عالم نے وی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اڈیالہ جیل میں نواز شریف سے کئی بار ملاقات کی ہے لیکن ملاقات مختصر ہوتی تھی اور صرف حال احوال پوچھنے کا موقع ملتا تھا، تفصیلی گفتگو کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

جیل میں ملاقات کے دوران نواز شریف سیاسی گفتگو بھی کرتے تھے، عارف ملک

وی نیوز کے نمائندے عارف ملک نے بتایا کہ کوٹ لکھپت جیل میں ان کی سابق وزیراعظم نواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں سیاسی گفتگو بھی ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے پارٹی رہنما اور صحافی ہر ہفتے ملتے تھے اور سیاسی گفتگو بھی جیل سے باہر بیان کی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کس حال میں ہیں؟ بہن نے ملاقات کے بعد سب کچھ بتا دیا

انہوں نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ بلاول بھٹو بھی نواز شریف سے ملنے گئے تھے اور ملاقات کے بعد میڈیا کو اس کا احوال بتایا تھا جس کے بعد پی ڈی ایم کی تشکیل ہوئی۔

مختلف خدشات پر سپرنٹینڈینٹ جیل ملاقات روک سکتا ہے، اعظم نذیر تارڑ

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ جیل مینوئل کے مطابق قیدی سے ملاقات کے مختلف رولز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رول 265 کے مطابق قیدی کی ہفتے میں ایک ملاقات کروائی جاسکتی ہے اور یہ ملاقات 6 لوگوں تک محدود ہوگی اور ملاقاتوں میں سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی، قانون کے مطابق ملاقاتیں نجی ہوں گی، ان میں ملکی حالات پر کوئی بات یا جیل اور سیاست پر بات نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جو گفتگو ملاقات کے دوران ہوگی وہ پبلک نہیں کی جائے گی، یعنی اس پر ٹوئٹ نہیں کیا جائے گا، سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کی جائے گی، ٹی وی پر نہیں چلے گی یا پریس ریلیز جاری نہیں کی جائے گی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی بھی قیدی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ سپرنٹینڈینٹ جیل کی نگرانی کے بغیر ملاقات کرے، اگر جیل سپرنٹینڈینٹ سمجھیں کہ ملاقاتوں میں رولز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے تو وہ ملاقاتیں روک بھی سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: عمران خان سے ملاقاتوں میں نہ سیاسی گفتگو ہو اور نہ ہی باہر آکر پریس کانفرنس ہو، رانا ثنا اللہ

ان کا کہنا تھا کہ اگر سپرنٹینڈینٹ جیل کو یہ اندیشہ ہو کہ ملاقاتوں کے احوال پبلک کیے جائیں گے اور ایسا ہونے سے نقص امن کا خدشہ ہے تو وہ ملاقاتیں روک سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور سری لنکا کی مشترکہ فوجی مشق ’شیک ہینڈز II‘ کا تربیلا میں آغاز

شرح سود میں اضافے پر تاجر تنظیمیں مایوس، معاشی بحالی سے متصادم قرار دیدیا

ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش کردی، صدر ٹرمپ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ترجمان وائٹ ہاؤس

فیلڈ مارشل کو اللہ نے عزت دی، ایسا مقام پاکستان کو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، گورنر پنجاب

سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ

ویڈیو

پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کی کوششیں: شاندار ماضی، موجودہ زوال اور پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے

خیبرپختونخوا حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی، وفاق کے ساتھ بہتر تعلقات ہونے چاہییں، سابق گورنر حاجی غلام علی

کیا ایران امریکا مذاکرات بحال ہوں گے؟پاکستانی شہری کیا سوچتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

ٹرمپ کا بلف

ایران، امریکا مذاکرات: اعصاب کی جنگ کون جیتے گا؟

مذاکرات میں پاکستان اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟