کراچی ضلع شرقی پولیس نے گلشن اقبال میں واقع ایک فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کا معمہ حل کرکے مرکزی قاتلوں کو گرفتار کرلیا جنہوں نے اقبال جرم کرتے ہوئے قتل کی وجہ بھی بتادی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ماں نے اپنے 2 بچوں کو قتل کردیا، وجہ کیا بنی؟
یاد رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملی تھیں جبکہ ایک شخص نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی ملا تھا۔ مرنے والی تینوں خواتین ماں، بیٹی اور بہو تھیں۔
ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ کے مطابق مقتولین کی شناخت (ماں) ثمینہ، (بیٹی) ثمرین اور (بہو) ماہا کے ناموں سے کی گئی اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
گھر کا سربراہ محمد اقبال اور بیٹا محمد یاسین مبینہ طور پر واقعے کے مرکزی کردار نکلے۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ محمد یاسین بطور پراپرٹی ایجنٹ کام کرتا تھا اور متاثرہ خاندان 1.5 کروڑ روپے سے زائد قرض میں مبتلا تھا۔
مزید پڑھیے: کراچی: فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں ملنے کا واقعہ، نئے لرزہ خیز انکشافات سامنے آگئے
انہوں نے بتایا کہ بیٹے اور باپ نے پہلے بہو ماہا کو زہر دے کر کمرے میں بند کیا، ماں ثمینہ اور بیٹی ثمرین کو اتوار کے روز جوس میں زہر ملا کر دیا گیا اور بیٹے محمد یاسین نے بھی خودکشی کی کوشش کی جس کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ایس ایس پی ایسٹ کے مطابق اہل خانہ کے ذریعے اطلاع پولیس کو موصول ہوئی اور تحقیقات کے بعد واقعے میں ملوث مرکزی ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے چوہے مار دوا کی 8 تا 10 خالی بوتلیں اور کثیر تعداد میں نیند کی گولیوں کے خالی ریپر ملے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی: جائیداد کے لالچ میں ماں کو قتل کرنے والا بیٹا گرفتار
زبیر نذیر شیخ کے مطابق زیرحراست باپ اور بیٹے نے دورانِ انٹروگیش تینوں خواتین کو زہر دے کر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کے مطابق گھر سے دو خط بھی برآمد ہوئے ہیں جن میں لکھا ہے کہ وہ قرض ادا نہ کرنے کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں۔ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ گھر میں موجود کچھ قیمتی اشیا فروخت کرکے تدفین کا انتظام کیا جائے اور بچ جانے والی رقم مدرسے کو دے دی جائے۔
یہ بھی پڑھیے: کراچی: اوسطاً ہر تیسرے روزے پر ایک شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل
واقعے کا مقدمہ تھانہ گلشن اقبال میں درج کیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔














