کیا روسی خام تیل کی درآمد سے پاکستان میں پیٹرول 100 روپے تک سستا ہوسکتا ہے؟

بدھ 24 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے روس سے خام تیل کی خریداری کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد ایک لاکھ ٹن خام تیل کا پہلا جہاز آئندہ ماہ جون کے آغاز میں پاکستان پہنچ جائے گا۔

روس سے تیل کی درآمد کو پیٹرول کی قیمتوں میں 100 روپے فی لیٹر تک متوقع کمی سے منسلک کیا جارہا ہے جب کہ ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق ایسا ممکن نہیں۔

روس سے بذریعہ اومان پاکستان درآمد ہونے والا خام تیل نمونہ کے طور پر آ رہا ہے، جسے ریفائن کرنے کے بعد معلوم ہو گا کہ اس پر کتنی لاگت آتی ہے اور کیا یہ سستا ہے یا نہیں۔

روس سے درآمد خام تیل پر کیا لاگت آئے گی؟

ذرائع وزارت پیٹرولیم نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے روس سے فی الحال ایک ہی خام تیل کا جہاز منگوایا ہے جو کہ بطور سیمپل متوقع ہے۔ اس خام تیل پر 10 ڈالر فی بیرل ٹرانسپورٹیشن خرچ آئے گا جبکہ 8 ڈالر ریفائن کرنے پر خرچ ہوں گے۔

روس سے ایک لاکھ ٹن خام تیل کا پہلا جہاز 27 مئی کو اومان کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا۔ (فائل فوٹو)

اس تیل کی ریفائنننگ کے بعد ہی معلوم ہو گا کہ درآمد روسی تیل کو قابل استعمال بنائے گئے پیٹرول پر کیا لاگت آئے گی؟ ذرائع وزارت پٹرولیم کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ روس سے خام تیل لے کر آنیوالے اس پہلے جہاز سے ملک میں پیٹرول کی قیمت پر فرق نہیں پڑے گا۔

روس سے آنے والا خام تیل کب پہنچے گا؟

وزیر مملکت پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا ہے کہ روس سے ایک لاکھ ٹن خام تیل کا پہلا جہاز 27 مئی کو اومان کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا۔ پاکستان کی بندگارہ پر پچاس ہزار ٹن سے زیادہ لنگرانداز ہونے کی گنجائش نہ ہونے کے باعث خام تیل چھوٹے جہازوں کے ذریعے پاکستان تک لایا جائے گا۔

وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم سیکٹر کی گرین فیلڈ ریفائننگ پالیسی متعارف کرائی ہے۔ (فائل فوٹو: سوشل میڈیا)

ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق 10 جون سے قبل روس سے آنے والا خام تیل پاکستان پہنچ جائے گا، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی سالانہ طلب 20 ملین ٹن ہے۔

وزیر مملکت پٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم سیکٹر کی گرین فیلڈ ریفائننگ پالیسی متعارف کرائی ہے، جنوبی ایشیا میں پاکستان کی توانائی کی فی کس کھپت کم ترین ہے۔ ملکی پٹرول اور ڈیزل کی سالانہ طلب 20 ملین ٹن ہے اور مقامی سطح پر تیل کی پیداوار دس سے گیارہ ملین ٹن سالانہ ہے جبکہ ملک میں فرنس آئل کی کھپت بہت محدود ہوگئی ہے۔ انرجی سیکیورٹی کے لیے ملک میں خام تیل کے ذخیرے کی سہولت بہت ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کو ترک ریاستوں کی تنظیم ‘او ٹی ایس’ کا مکمل رکن بنایا جائے، ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا مطالبہ

ایران امریکا مذاکرات دوسرا دور: سیرینا ہوٹل میں انتظامات میں خاص کیا بات ہے؟

میانمار اسمگلنگ کی کوشش ناکام، بنگلہ دیش نیوی نے 11 افراد کو سیمنٹ سے بھری کشتی سمیت گرفتار کرلیا

پاکستان کی مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے دوران فعال سفارت کاری بنگلہ دیش کے لیے مثال قرار

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟