عربی زبان کا عالمی دن

جمعرات 18 دسمبر 2025
author image

طلحہ الکشمیری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عربی زبان دنیا کی قدیم ترین اور بااثر زبانوں میں سے ایک ہے۔ یہ نہ صرف 420 ملین سے زیادہ لوگوں کی مادری زبان ہے بلکہ اسلام کی مقدس زبان ہونے کی وجہ سے اس کی مذہبی، ثقافتی اور علمی اہمیت بے مثال ہے۔ اقوام متحدہ نے 1973 میں 18 دسمبر کو عربی زبان کے عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا تاکہ اس زبان کی عظمت، تاریخی کردار اور عصری اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: 18 دسمبر: عربی زبان کا عالمی دن

عربی زبان سامی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ عرب جزیرہ نما میں پروان چڑھنے والی یہ زبان زمانہ جاہلیت میں بھی اپنی شاعری، فصاحت اور بلاغت کی وجہ سے مشہور تھی۔ معلقاتِ سبعہ جیسی شاعری کے شاہکار اس دور کی زبان کی بلندی کو ظاہر کرتے ہیں۔

7ویں صدی عیسوی میں قرآنِ کریم کا نزول عربی زبان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ قرآن کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے نہ صرف عربی زبان کو محفوظ کر دیا بلکہ اسے ایک عالمی زبان کے مقام تک پہنچا دیا۔ قرآن کی زبان نے عربی گرامر، لغت اور ادب کو معیاری شکل دی اور اسے آنے والی صدیوں کے لیے محفوظ کر دیا۔

اسلامی سنہری دور میں عربی زبان علم و فن کی عالمی زبان بن گئی۔ بغداد، قرطبہ، قاہرہ اور دمشق جیسے شہروں میں قائم کتب خانوں اور دارالعلوم میں عربی میں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، کیمیا اور دیگر علوم پر لاتعداد کتابیں لکھی گئیں۔ ابنِ سینا، الخوارزمی، ابنِ رشد، الرازی اور ابن الہیثم جیسے عظیم علما نے عربی میں ایسی تصانیف چھوڑیں جنہوں نے یورپی نشاۃِ ثانیہ کی بنیاد رکھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہمیں اس پر فخر ہے‘، سعودی عرب میں عربی زبان کے فروغ کے لیے تعلیمی، ثقافتی اور علمی سرگرمیوں کا انعقاد

عباسی دور میں بیت الحکمہ میں یونانی، فارسی، ہندی اور دیگر زبانوں کی ہزاروں کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا۔ یہ علمی ورثہ بعد میں لاطینی اور دیگر یورپی زبانوں میں منتقل ہوا اور جدید سائنس کی بنیاد بنا۔ عربی نے علمی پل کا کردار ادا کیا جس نے مشرق اور مغرب کو جوڑا۔

آج عربی زبان 22 عرب ممالک کی سرکاری زبان ہے جو مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مراکش سے لے کر عمان تک، عربی ایک متحدہ ثقافتی اور لسانی شناخت فراہم کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی 6 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے عربی کی عالمی سفارتی اہمیت بھی مسلم ہے۔

دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب مسلمانوں کے لیے عربی مقدس زبان ہے۔ نماز، قرآن کی تلاوت اور اسلامی عبادات کی ادائیگی عربی میں ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مسلمان معاشروں میں عربی زبان کی تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ دنیا کے کونے کونے سے مسلمان حج اور عمرہ کے لیے سعودی عرب آتے ہیں اور عربی زبان سے جڑتے ہیں۔

عربی زبان اپنی وسیع لغت کے لیے مشہور ہے۔ ایک ہی چیز کے لیے متعدد الفاظ، مترادفات کی کثرت اور لفظی صیغوں کی تنوع عربی زبان کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ مثلاً شیر کے لیے 300 سے زائد اور اونٹ کے لیے ایک ہزار سے زائد الفاظ عربی میں موجود ہیں۔ یہ لسانی دولت عربی شاعری اور نثر کو منفرد اظہار کی طاقت عطا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں موسیقی کے رنگ، چینی کورس نے عربی زبان میں پہلی بار گیت پیش کیے

عربی کا نحوی نظام (گرامر) انتہائی منظم اور مربوط ہے۔ افعال کی تشکیل میں ثلاثی مجرد کا نظام، اسماء کی اعرابی حالتیں اور مذکر مؤنث کی تفریق عربی زبان کو لسانی لحاظ سے ایک مکمل اور نفیس زبان بناتے ہیں۔ صرف و نحو کے قواعد کی یہ پختگی صدیوں کے علمی کام کا نتیجہ ہے۔

جدید دور میں عربی زبان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انگریزی اور دیگر عالمی زبانوں کا غلبہ، ڈیجیٹل دور میں عربی مواد کی کمی، اور نوجوان نسل میں معیاری عربی سے دوری چند اہم مسائل ہیں۔ تاہم عربی میڈیا، الجزیرہ جیسے نیوز چینلز، آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر عربی کانٹینٹ کی بڑھتی ہوئی موجودگی امید افزا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے دور میں عربی زبان کی ڈیجیٹلائزیشن تیزی سے ہو رہی ہے۔ گوگل، مائیکروسافٹ اور دیگر ٹیک کمپنیاں عربی میں اپنی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ عربی ٹائپنگ ٹولز، ترجمہ کی ایپلیکیشنز اور صوتی معاونین (وائس اسسٹنٹ) عربی بولنے والوں کے لیے ٹیکنالوجی کو مزید قابلِ رسائی بنارہے ہیں۔

عالمی عربی دن کے ذریعے دنیا بھر میں عربی زبان کی تاریخ، ثقافتی ورثہ اور جدید کردار پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اس دن مختلف ممالک میں سیمینارز، کانفرنسز، ادبی محفلیں اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ یونیسکو اور دیگر بین الاقوامی ادارے عربی زبان کے تحفظ اور نئی نسل میں اس کے فروغ کے لیے منصوبے شروع کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات نےعربی زبان میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک نیا ماڈل لانچ کردیا

اردو زبان اور عربی کا گہرا تعلق ہے۔ اردو کا رسم الخط عربی سے ماخوذ ہے اور اس میں ہزاروں عربی الفاظ شامل ہیں۔ اسلامی اصطلاحات، مذہبی تعلیمات اور ادبی روایات میں عربی کا بھرپور استعمال اردو کو ایک بھرپور اور مؤثر زبان بناتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے عربی اور اردو دونوں زبانیں ثقافتی اور مذہبی شناخت کا حصہ ہیں۔

عربی زبان محض الفاظ اور جملوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیب، روشن تاریخ اور بھرپور ثقافتی ورثے کی امین ہے۔ عالمی عربی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زبانیں انسانی تہذیب کی بنیاد ہیں اور ان کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

آج جب ہم عالمی عربی دن مناتے ہیں تو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اس زبان کے فروغ، اس کی تعلیم اور اس کے ذریعے علم و ادب کی ترویج میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ عربی زبان نے ماضی میں انسانیت کو بہت کچھ دیا ہے اور مستقبل میں بھی یہ علم، ثقافت اور بین الاقوامی افہام و تفہیم کے لیے ایک اہم ذریعہ بنی رہے گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈاکٹر طلحہ الکشمیری اقوام متحدہ، پاک عرب تعلقات، انسانی حقوق، جنوبی ایشیا اور پاکستان سے متعلق امور پر حقائق پر مبنی تجزیاتی اور محققانہ تحریریں قلم بند کرتے ہیں، اردو، اور عربی زبان و ادب کے ساتھ گہری مناسبت رکھتے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا عظیم فٹبالر رونالڈو فلمی دنیا میں قدم رکھنے والے ہیں؟

پاکستان کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ ہوا تو جہاد کا فتویٰ جاری کردیں گے، ایرانی پارلیمنٹ

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی مصری ہم منصب سے قاہرہ میں ملاقات

گرین لینڈ پر امریکی دباؤ مسترد، یورپ غنڈہ گردی کے آگے نہیں جھکے گا، فرانسیسی صدر میکرون

ویڈیو

جنید صفدر کی شادی میں فوٹو شوٹ کرنے والے فوٹو گرافر نے ساری تفصیلات بیان کردیں

شہر اقتدار میں 28ویں آئینی ترمیم کی چہ مگوئیاں، تھرتھلی مچ گئی

درختوں سے پولن الرجی اسلام آباد کے شہریوں کو کیسے متاثر کررہی ہے؟

کالم / تجزیہ

’میرے پاس کالا کوٹ نہیں تھا‘

کینیڈا کے انڈے

پی ٹی آئی کے تابوت میں آخری کیل