بھارت کی ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل میں پولیس نے ایک نہایت سفاک اور سنسنی خیز اندھے قتل (بلائنڈ مرڈر) کا پردہ فاش کر دیا، جہاں ایک خاتون نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کیا، لاش کے ٹکڑے کیے اور ثبوت مٹانے کی کوشش کی۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب 15 دسمبر کو چندوسی کوتوالی پولیس نے پتروا روڈ پر عیدگاہ کے پیچھے ایک سیاہ بیگ سے انتہائی مسخ شدہ دھڑ برآمد کیا، جس کا سر اور بازو ٹانگیں غائب تھیں۔ لاش کی شناخت مشکل تھی، تاہم فرانزک معائنے کے دوران بازو پر گُدے ہوئے نام ’راہول‘ نے تفتیش کا رخ بدل دیا۔
مزید پڑھیں: کزن کو قتل کرکے لاش پگھلانے والا ملزم فرار ہونے کی کوشش میں ہلاک
پولیس نے فوری طور پر لاپتا افراد کے ریکارڈ کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ 24 نومبر کو اسی تھانے میں روبی نامی خاتون نے اپنے شوہر راہول کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔ روبی کو شناخت کے لیے بلایا گیا، جہاں اس نے لاش کے ساتھ ملنے والے کپڑوں کو شوہر کے کپڑے ماننے سے انکار کر دیا، تاہم تفتیش کے دوران اس کے بیانات میں تضاد اور مشکوک رویہ پولیس کے شبہات کو بڑھاتا گیا۔
تحقیقات اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئیں جب پولیس نے روبی کے موبائل فون کا جائزہ لیا۔ فون میں ایسی تصاویر ملیں جن میں روبی ایک شخص کے ساتھ کھڑی تھی، جس نے وہی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جو مسخ شدہ لاش کے ساتھ ملی تھی۔ ثبوت سامنے آنے پر روبی ٹوٹ گئی اور اس نے جرم کا اعتراف کر لیا۔
پولیس کے مطابق روبی کا مقامی نوجوان گورو کے ساتھ ناجائز تعلق تھا۔ 17 اور 18 نومبر کی درمیانی رات روبی نے گورو کو گھر بلایا، اسی دوران شوہر راہول اچانک واپس آ گیا اور دونوں کو قابلِ اعتراض حالت میں دیکھ لیا۔ جھگڑے کے دوران روبی نے بھاری چیز سے راہول کے سر پر وار کیا، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
قتل کے بعد دونوں نے لاش چھپانے کے لیے ایک خوفناک منصوبہ بنایا۔ گورو نے کٹر مشین کا انتظام کیا اور دونوں نے مل کر لاش کے ٹکڑے کیے۔ سر اور اعضا ایک بیگ میں بھر کر قریباً 50 کلومیٹر دور راج گھاٹ کے قریب گنگا میں پھینک دیے، جبکہ دھڑ دوسرے بیگ میں ڈال کر عیدگاہ کے پیچھے پھینک دیا گیا۔
مزید پڑھیں: 2 بچوں کو قتل کرکے لاشیں برسوں تک سوٹ کیس میں چھپانے والی ماں پر جرم ثابت
پولیس نے روبی کے گھر سے کٹر مشین اور دیگر شواہد بھی برآمد کر لیے ہیں، جبکہ فرانزک ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ لاش کے ٹکڑے گھر ہی میں کیے گئے تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ٹیٹو اور موبائل تصاویر نے اس اندھے قتل کی گتھی سلجھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
روبی اور گورو دونوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی ماندہ جسمانی اعضا کی تلاش اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس لرزہ خیز واردات نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔














