اسلام آباد ہائیکورٹ بار انتخابات: عدالتی فیصلے کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے پر تنقید

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ بار انتخابات کے تناظر میں وکلا کے اندر جاری سیاسی مہم نے عدالتی نظام کی حرمت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صدر ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد، چوہدری نعیم گجر، کے حالیہ بیانات اور ٹویٹس کو ماہرین قانون عدالت کے فیصلے کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے بھی سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست دائر کردی

ماہرین کے مطابق انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے کسی مقدمے یا فیصلے کو استعمال کرنا نہ صرف پیشہ ورانہ لحاظ سے غلط ہے بلکہ یہ عدالتی وقار کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ عدالت ایک مقدس مقام ہے، جہاں قانون کی حرمت مقدم ہے، نہ کہ سیاسی منافع کے لیے جذباتی کھیل۔

چودھری نعیم گجر پر الزام ہے کہ وہ 31 جنوری کو ہونے والے اجلاس کو قانونی سیمینار کے بجائے سیاسی اسٹیج کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، اور اس کے ذریعے 14 فروری کو ہونے والے IHCBA انتخابات کے لیے ووٹرز حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ IHCBA کی صدارت ایک اعزازی اور باوقار منصب ہے جس کے لیے فکری ایمانداری اور عدالتی وقار کی پاسداری لازمی ہے۔ فیصلے کو انتخابی مہم میں تبدیل کرنا نہ صرف بار کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ قانون کی روح کو بھی کمزور کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تقرری خوش آئند ہے، سپریم کورٹ بار

وکلاء کی سیاسی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ قانون پر عمل اور عدالتی فیصلوں کا احترام ہر وکیل کی اولین ذمہ داری ہے، اور کوئی بھی فیصلہ یا مقدمہ سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

قانونی ماہرین نے بار کے اندر وکلا سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں شفافیت اور قانونی اصولوں کو مقدم رکھیں، تاکہ عدالتی نظام کی ساکھ قائم رہے اور قانون کی حرمت ہر حال میں محفوظ رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp