لاہور میں بسنت کی تقریبات کے دوران پتنگ بازی سے متعلق مختلف حادثات میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ کم از کم 5 افراد زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، بسنت نے معیشت میں نئی جان ڈال دی
ریسکیو حکام کے مطابق یہ واقعات شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے۔ بسنت کا تہوار جمعرات کی شب پنجاب حکومت کی جانب سے 20 سال سے زائد عرصے بعد عائد پابندی اٹھانے کے بعد شروع ہوا جو 6 سے 8 فروری تک جاری رہے گا۔ حکومت نے اس موقع پر سخت حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا تھا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق 25 سالہ علی رشید باغبانپورہ کے علاقے سِکھ کینال کے قریب آوارہ پتنگ اتارتے ہوئے بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔
دیگر واقعات میں گلشنِ راوی میں 45 سالہ شبیر پتنگ کی ڈور میں الجھ کر زخمی ہوا۔ ڈیفنس فیز 5 میں کم عمر لڑکا رافع ڈور کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔ گلشن راوی ہی میں 8 سالہ ارسا کے گلے میں ڈور لپٹنے سے وہ زخمی ہو گئیں۔12 سالہ عبدالوحید لوئر مال میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتارتے ہوئے زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیے: مولانا طارق جمیل کی لاہور میں بسنت منانے کی ویڈیو وائرل، حقیقت کیا ہے؟
ریسکیو ٹیموں نے فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
مریم نواز کا اظہار افسوس اور متعلقہ حکام کو ہدایات
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرنٹ لگنے سے نوجوان کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندان سے تعزیت و ہمدردی کی۔
انہوں نے مختلف واقعات میں بچوں کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موٹر سائیکلوں پر سیفٹی راڈ کی تنصیب پر سختی سے عمل درآمد، ریڈ زون میں بغیر سیفٹی راڈ موٹر سائیکل سواروں کے داخلے پر پابندی اور شہر بھر میں دھاتی اور ممنوعہ ڈور کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کی ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دھاتی اور ممنوعہ ڈور استعمال کر کے خوشی کو غم میں نہ بدلیں۔
دریں اثنا لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق بسنت کے دوران 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’لاہور کے مناظر دیکھ کر بچپن یاد آگیا‘، بسنت کے موقع پر وسیم اکرم نے لوگوں سے کیا اپیل کی؟
شہر کو ریڈ، ییلو اور گرین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں مجموعی طور پر 268 چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
پولیس اہلکاروں کو چھتوں، پلوں، انڈر پاسز اور داخلی و خارجی راستوں پر بھی تعینات کیا گیا ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہر کی سڑکوں پر 1,300 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ کارروائی کے دوران 44 موٹر سائیکل سواروں کو بغیر سیفٹی راڈ سفر کرنے پر گرفتار کیا گیا جبکہ ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور میں بسنت فیسٹیول کا آغاز، آئی جی پنجاب کا پولیس کو الرٹ رہنے کا حکم
حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔














