وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 23واں اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم اور دور رس فیصلے کیے گئے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے پریس بریفنگ میں اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔
کابینہ نے 31 جنوری کے دہشتگردی واقعات کی مذمت کرتے ہوئے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ حکومت اور سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر منصوبے کی منظوری دی گئی جس کا مقصد پانی کے مؤثر استعمال اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہے۔ بلوچستان لینڈ لیز پالیسی 2026 کی بھی منظوری دی گئی، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
غذائی تحفظ کے پیش نظر 0.50 ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سرکاری گندم میں بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پارلیمانی سب کمیٹی قائم کر دی گئی۔ بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان اسمبلی میں نشستوں میں اضافے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
کابینہ نے بی ڈی اے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے فنڈز کی منظوری، خودمختار اداروں کی تنظیم نو، بلوچستان پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ 2025 اور لیویز فورس ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی دی۔
قومی شاہراہوں پر سیکیورٹی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی اور آئی جی پولیس کو 7 روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ شاہد رند نے کہا کہ صوبے میں امن، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔














