امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں پہلی بار سامنے آنے والی امریکی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ذمہ دار عناصر پر سخت ترین ضرب لگائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جنگ ایرانی حکومت کو ہٹانے کے مقصد سے شروع کی گئی، اور ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں میزائل داغے جانے کے بعد صورتحال مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ ان کے مطابق ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کے بڑے حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوئے، جس کے بعد تقریباً 4 ہفتوں پر مشتمل ممکنہ تنازع کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کا حالیہ تنازعہ میں 560 امریکی اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ، امریکا کی تردید
ایرانی افواج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں ہلاکتیں ہوئیں، جبکہ خلیجی خطے کے اہم معاشی مراکز میں دھماکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ سے ویڈیو خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، ‘میں ایک بار پھر انقلابی گارڈ، ایرانی فوج اور پولیس سے کہتا ہوں کہ ہتھیار ڈال دیں اور مکمل استثنیٰ حاصل کریں، بصورت دیگر یقینی موت کا سامنا کریں گے۔ یہ منظر خوشگوار نہیں ہوگا۔’
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور امریکا ایران کو ٹکڑے کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایرانی رہنما علی لاریجانی کا بیان
پینٹاگون کے مطابق ‘ایپک فیوری’ نامی آپریشن کے دوران 3 امریکی فوجی ہلاک اور 5 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افسوس کے ساتھ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے، لیکن امریکا اپنے شہریوں کی اموات کا بدلہ لے گا اور ان عناصر کو سخت سزا دے گا جنہوں نے ‘درحقیقت تہذیب کے خلاف جنگ چھیڑی ہے۔’
امریکا میں فوجی ہلاکتیں سیاسی طور پر نہایت حساس سمجھی جاتی ہیں، اور ناقدین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک امریکی عوام کو جنگ کی مکمل وجوہات سے آگاہ نہیں کیا۔












