ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے دوران 560 امریکی اہلکار ہلاک ہوئے اور امریکی بحری اثاثوں کو بھی نقصان پہنچا۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر امریکی جانی نقصان کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود امریکی افواج مکمل طور پر فعال ہیں اور ان کے بحری اثاثے محفوظ ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل اور امریکا ایران کو ٹکڑے کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ایرانی رہنما علی لاریجانی کا بیان
دوسری جانب امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے متعلق کارروائیوں کے دوران 3 امریکی سروس ممبران ہلاک اور 5 شدید زخمی ہوئے، جبکہ مزید اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ پینٹاگون نے اس آپریشن کو ‘ایپک فیوری’ کا نام دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ایجنسی فرانس پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ میں پہلی امریکی ہلاکتوں کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ فلوریڈا سے ویڈیو خطاب میں انہوں نے ایرانی انقلابی گارڈ، فوج اور پولیس کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مکمل استثنیٰ دیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر انہیں ‘یقینی موت’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ایرانی میزائل حملے میں 9 اسرائیلی ہلاک اور 23 زخمی
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مزید فوجی کارروائیوں اور جوابی حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔














