پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور آبی دہشتگردی کے اقدامات کو سختی سے مسترد کردیا۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں توانائی، اہم معدنیات اور سلامتی کے موضوع پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہاکہ قدرتی وسائل کے حصول کی دوڑ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعات کوئی نئی بات نہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اس روش کو تبدیل کیا جائے۔
پانی کو ہتھیار بنانا ناقابل قبول قرار
پاکستانی مندوب نے اپنے بیان میں کہاکہ قدرتی وسائل کو معاشی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ دباؤ یا تنازعے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پانی جیسے اہم قدرتی وسیلے کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول ہے کیونکہ مشترکہ آبی وسائل زندگی کے تسلسل اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے آبی دہشت گردی کا سامنا ہے، کیونکہ نئی دہلی نے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کرتے ہوئے انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کرنے کی کوشش کی ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی ہے۔
عالمی برادری بھارت کو معاہدے پر عمل کا پابند بنائے
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر زور دے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل طور پر عمل کرے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق اگست 2025 میں ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد یہ معاہدہ بدستور مؤثر اور نافذ العمل ہے۔
توانائی اور معدنی وسائل کے شعبے میں اقدامات
سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی اور معدنی وسائل کی ذمہ دارانہ ترقی کے لیے پرعزم ہے تاکہ ان وسائل کو صنعتی ترقی اور سماجی بہتری کے لیے بروئے کار لایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اہم معدنیات کی تلاش اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانا، جیولوجیکل میپنگ کو جدید بنانا، لائسنسنگ کے عمل میں شفافیت لانا اور ماحول دوست کان کنی کے طریقوں کو فروغ دینا شامل ہے۔
قدرتی وسائل پر ریاستوں کی خودمختاری ضروری قرار
پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو اپنے قدرتی وسائل پر مستقل خودمختاری کا حق حاصل ہونا چاہیے، جو بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 1803 میں بھی اس کی توثیق کی گئی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہاکہ اہم معدنیات کے شعبے میں تمام شراکت داریاں تعاون پر مبنی ہونی چاہییں، استحصال پر نہیں۔ ان معاہدوں میں شفافیت، میزبان ممالک کی ترقیاتی حکمت عملی کا احترام اور مقامی آبادی کو برابر فوائد کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پاکستان کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ، اسلام آباد نے اقوام متحدہ کو خبردار کر دیا
عالمی تجارتی نظام کے استحکام پر زور
پاکستان نے اس موقع پر ایک کھلے، شفاف اور غیر امتیازی عالمی تجارتی نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق سپلائی چین کو متنوع بنانے کا مقصد عالمی استحکام کو بڑھانا ہونا چاہیے، نہ کہ نئی تقسیم پیدا کرنا۔
انہوں نے کہاکہ توانائی کے تحفظ کے لیے یکطرفہ اقدامات کے بجائے کثیرالجہتی تعاون ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔














